پاکستان کی کامیاب ثالثی پر ایران-امریکا جنگ بندی، بھارت میں تنقید کا طوفان

ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی میں پاکستان کی کامیاب ثالثی کے بعد India میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا ہے، جہاں عوام اور تجزیہ کاروں نے اپنی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

رپورٹس کے مطابق Pakistan نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالث کے طور پر اہم کردار ادا کیا، اور Donald Trump کی حالیہ دھمکیوں کے بعد سفارتی کوششوں میں تیزی آئی۔ کامیاب مذاکرات کے نتیجے میں دونوں ممالک 15 دن کی عارضی جنگ بندی پر رضامند ہو گئے۔

دنیا بھر میں پاکستان کے اس کردار کو سراہا جا رہا ہے، جبکہ وزیر اعظم Mian Muhammad Shehbaz Sharif اور فیلڈ مارشل Asim Munir کی قیادت کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔دوسری جانب بھارتی میڈیا اور مبصرین نے اعتراف کیا ہے کہ حالیہ بحران میں پاکستان کا سفارتی کردار نمایاں رہا، جس سے عالمی سطح پر اس کی حیثیت مضبوط ہوئی ہے۔تجزیہ کاروں نے بھارتی وزیر اعظم Narendra Modi کی خارجہ پالیسی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایک دہائی قبل Uri attack کے بعد بھارت نے پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کا دعویٰ کیا تھا، تاہم موجودہ صورتحال اس کے برعکس نظر آ رہی ہے۔

ایک بھارتی تجزیہ کار نے سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آج سفارت کاری کے میدان میں پاکستان نمایاں ہے جبکہ بھارت پس منظر میں چلا گیا ہے۔واضح رہے کہ Iran اور United States نے پاکستان کی تجویز کردہ دو ہفتوں کی جنگ بندی قبول کر لی ہے، جبکہ ایران کی قیادت نے بھی اس کی منظوری دے دی ہے۔دونوں ممالک کے درمیان امن مذاکرات کا آغاز 10 اپریل سے اسلام آباد میں ہوگا۔