ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات 10 اپریل کو اسلام آباد میں ہوں گے

ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات 10 اپریل کو اسلام آباد میں ہوں گے

اسلام آباد (ویب ڈیسک)ایران اور امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات 10 اپریل کو اسلام آباد میں ہوں گے۔

ایرانی سپریم سیکیورٹی کونسل کے مطابق امریکا کو پاکستان کے ذریعے دس نکات پر مشتمل تجاویز ارسال کر دی گئی ہیں، اور مجوزہ مذاکرات اسلام آباد میں منعقد ہوں گے جہاں حتمی جنگ بندی پر بات چیت کی جائے گی۔

امریکی ٹی وی سی این این نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایرانی حکام سے اسلام آباد میں بات چیت کی تیاری کر رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جے ڈی وینس، جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف مذاکرات میں امریکی نمائندگی کر سکتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس اس وقت ہنگری میں موجود ہیں، تاہم اسلام آباد میں متوقع میٹنگ کے باعث ان کا دورہ محدود کیا جا سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق ان مذاکرات میں پاکستانی مذاکرات کار بھی شریک ہوں گے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فیلڈ مارشل اور وزیر اعظم شہباز شریف کی درخواست پر ڈیڈ لائن میں دو ہفتے کی توسیع کر دی ہے۔

ایرانی سپریم سیکیورٹی کونسل نے موجودہ جنگ بندی کو اپنی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکراتی نکات میں پابندیاں اٹھانے اور بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی کی شرط شامل ہے۔

امریکا کی جانب سے کیے گئے اعلان کو ایران کی بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ایرانی مؤقف کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کی سخت دھمکیوں کے باوجود ایران نے اپنے 10 نکاتی منصوبے میں پیش کردہ مطالبات سے دستبردار ہونے سے انکار کر دیا ہے۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے 10 نکاتی تجویز موصول ہو چکی ہے جو بات چیت کے لیے قابل عمل بنیاد فراہم کرتی ہے۔ ان کے مطابق امریکا اور ایران طویل المدتی حتمی امن معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں اور ماضی کے اہم اختلافی نکات پر اتفاقِ رائے ہو چکا ہے۔