اسلام آباد ہائی کورٹ نے سرکاری ملازمین کی ترقیوں سے متعلق دائر درخواستیں منظور کرتے ہوئے ترقیوں میں نظر انداز کرنے اور التوا کے فیصلوں کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔جسٹس انعام امین منہاس نے چار صفحات پر مشتمل مختصر تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو ہدایت دی گئی کہ درخواست گزاروں کے کیسز دوبارہ محکمانہ انتخابی بورڈ کے سامنے پیش کیے جائیں۔عدالت نے حکم دیا کہ محکمانہ انتخابی بورڈ سول سرونٹ پروموشن رولز 2019 کے قاعدہ 18 کے تحت ازسرِنو جائزہ لے اور ہر افسر کا آزادانہ اور غیر جانب دارانہ تجزیہ کرے۔فیصلے میں واضح کیا گیا کہ بورڈ کے اراکین کسی بیرونی مواد، ذاتی معلومات یا غیر متعلقہ آرا پر انحصار نہیں کریں گے۔ اگر کسی افسر کی دیانت داری پر سوال اٹھایا جائے تو اس کے لیے ٹھوس اور تحریری ثبوت فراہم کرنا ضروری ہوگا۔عدالت نے مزید کہا کہ اگر کسی افسر کی ترقی روکی یا ملتوی کی جائے تو اس کی واضح، مخصوص اور معقول وجوہات ریکارڈ کا حصہ بنانا لازم ہے۔فیصلے میں یہ بھی قرار دیا گیا کہ رازداری کا جواز پیش کر کے درخواست گزاروں کو اجلاس کی کارروائی یا متعلقہ ریکارڈ تک رسائی سے محروم نہیں رکھا جا سکتا۔