واشنگٹن (ویب ڈیسک) امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران سے تیار شدہ یورینیم نکالنے کے لیے ممکنہ فوجی آپریشن پر غور کر رہے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران سے تقریباً ایک ہزار پاؤنڈ یورینیم نکالنے والا یہ مشن انتہائی مشکل اور خطرناک ہو سکتا ہے، جس کے لیے امریکی فوج کو کئی دن تک ایران میں موجود رہنا پڑ سکتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اس بارے میں ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا، لیکن یہ ایک ممکنہ آپشن کے طور پر زیر غور ہے۔
امریکی حکام کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے قریبی مشیروں کو ہدایت دی ہے کہ ایران پر دباؤ ڈالا جائے تاکہ وہ جنگ کے خاتمے کی شرط کے طور پر یورینیم حوالے کریں۔ اگر ایران بات چیت کے دوران راضی نہ ہوا تو طاقت کے استعمال کا امکان بھی موجود ہے۔
اخبار کے مطابق یورینیم پر قبضہ کے لیے محدود اور ہدفی فوجی کارروائی جنگ کے دورانیے کو طول نہیں دے گی، لیکن اس کے خطرات اور نتائج انتہائی حساس ہو سکتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ پینٹاگون کا کام صدر کو مختلف آپشنز فراہم کرنا ہے، اور آپشنز کی موجودگی کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی حتمی فیصلہ کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ امریکہ ماضی میں بھی ایسے حساس آپریشن کر چکا ہے، جیسے 1990 میں قازقستان اور 1998 میں جارجیا سے یورینیم منتقل کرنے کے آپریشن۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایسا کوئی آپریشن کیا گیا تو خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔