کراچی (ویب ڈیسک) – سندھ حکومت نے کفایت شعاری سے متعلق اہم اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایندھن کی قلت روکنے کے لیے وفاقی حکومت جو بھی فیصلہ کرے گی، اس پر مکمل عمل کیا جائے گا۔
صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سندھ حکومت وفاقی حکومت کے تمام فیصلوں پر عمل کر رہی ہے اور موجودہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے مزید اہم فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حالات کے پیش نظر سندھ کابینہ نے تین ماہ کی تنخواہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ جمعہ کے روز گھروں سے کام کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے تاکہ ایندھن کی بچت ممکن بنائی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کے فیصلوں کی ہر سطح پر حمایت جاری رکھی جائے گی، اور اگر وفاق لاک ڈاؤن کا فیصلہ کرتا ہے تو سندھ حکومت اس پر بھی مکمل طور پر عمل کرے گی۔ عوامی ضروریات اور ایندھن کے ذخائر کو محفوظ بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں، اور حالات معمول پر آنے تک یہ اقدامات جاری رہیں گے۔
شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ ایسی صورتحال سے بچنا ضروری ہے جس میں ایندھن اور توانائی کی شدید کمی کا سامنا کرنا پڑے۔ اسی سلسلے میں سندھ حکومت نے بڑی تعداد میں سرکاری گاڑیوں کو عارضی طور پر بند (گراؤنڈ) کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایندھن کی بچت اور ممکنہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اگر وفاقی حکومت کو مزید تعاون کی ضرورت ہوئی تو سندھ حکومت ہر ممکن مدد فراہم کرے گی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ جہاں ممکن ہو گھروں سے کام کریں کیونکہ یہ مسئلہ کسی ایک فرد کا نہیں بلکہ سب کا مشترکہ مسئلہ ہے۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنا اور ایندھن کی قلت کو ہر صورت روکنا ہے، جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ کے حوالے سے بھی اہم فیصلے کیے گئے ہیں تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جا سکیں۔