امریکا کا ایران کو 15 نکاتی امن منصوبہ، شرائط اور ممکنہ فوائد سامنے آگئے

واشنگٹن (ویب ڈیسک): امریکا نے پاکستان کے ذریعے ایران کو 15 نکاتی امن منصوبہ بھیج دیا ہے، جس کا مقصد جاری جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنا اور خطے میں امن کی بحالی ہے۔

امریکی اخبار New York Post کے مطابق اس منصوبے میں ایران کے لیے 10 بنیادی شرائط رکھی گئی ہیں، جبکہ ان پر عملدرآمد کی صورت میں 3 بڑے عالمی فوائد کی پیشکش بھی کی گئی ہے۔

ایران کے لیے پیش کی گئی شرائط:

1۔ ایران اپنی موجودہ جوہری صلاحیتوں کا خاتمہ کرے۔
2۔ ایران آئندہ کبھی جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش نہ کرے۔
3۔ ایرانی سرزمین پر یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر بند کی جائے۔
4۔ افزودہ یورینیم کا ذخیرہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی International Atomic Energy Agency (IAEA) کے حوالے کیا جائے۔
5۔ نطنز، اصفہان اور فردو کی جوہری تنصیبات ختم کی جائیں۔
6۔ آئی اے ای اے کو تمام جوہری تنصیبات تک مکمل اور بلا رکاوٹ رسائی دی جائے۔
7۔ ایران اپنا علاقائی “پراکسی نیٹ ورک” ختم کرے۔
8۔ خطے میں موجود پراکسی گروپس کی مالی معاونت بند کی جائے۔
9۔ میزائل پروگرام کو رینج اور مقدار دونوں لحاظ سے محدود کیا جائے۔
10۔ میزائلوں کا استعمال صرف دفاعی مقاصد تک محدود رکھا جائے۔

ممکنہ فوائد (شرائط تسلیم کرنے کی صورت میں):

11۔ عالمی پابندیوں کا خاتمہ۔
12۔ سویلین نیوکلیئر پروگرام کے لیے امریکی معاونت۔
13۔ “اسنیپ بیک میکانزم” کا خاتمہ، جس کے تحت عدم تعمیل کی صورت میں پابندیاں خودکار طور پر بحال ہو جاتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس نے اس معاملے پر فوری تبصرہ نہیں کیا، تاہم پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے عندیہ دیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک مقاصد حاصل نہیں ہو جاتے۔