آئی ایم ایف نے حیسکو اور سیپکو کی نجکاری کی بروقت تکمیل کا مطالبہ کر دیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) عالمی مالیاتی ادارے IMF نے قومی بجٹ سے پہلے پاکستان سے ایک اور بڑا مطالبہ کر دیا ہے، جس کے تحت حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) اور سکھر الیکٹرک پاور کمپنی (سیپکو) کی نجکاری کے عمل کو بروقت مکمل کرنے کا کہا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے ان کمپنیوں کی نجکاری کے لیے مالیاتی مشیروں کو اہداف بروقت مکمل کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ حیسکو اور سیپکو کی نجکاری کے لیے مالیاتی مشیروں کا تقرر نومبر 2026 میں کیا گیا تھا اور انہیں چار ابتدائی اہداف دیے گئے تھے، جن میں انسپکشن رپورٹ، سیکٹورل ڈیو ڈیجیلنس رپورٹ، مارکیٹ کے تفصیلی جائزے اور عالمی تجربات سے استفادہ شامل ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مالیاتی مشیروں نے انسپکشن اور ڈیو ڈیجیلنس کے کئی مراحل مکمل کر لیے ہیں، اور حکام نے رپورٹس جلد مکمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔

وزارت خزانہ کی رپورٹ کے مطابق سکھر الیکٹرک پاور کمپنی کے ترسیلی نقصانات تقریباً 35 فیصد ہیں اور 2024 کے اختتام تک سپیکو کے نقصانات میں 30 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے، جبکہ حیسکو کے نقصانات کا حجم 488 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔

آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ حیسکو اور سپیکو کو فوری طور پر بحالی کے اقدامات کے ساتھ نجکاری کے عمل کو مکمل کرنا ضروری ہے تاکہ بجلی کے شعبے میں مالی استحکام یقینی بنایا جا سکے۔