فلوریڈا (ویب ڈیسک) – ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران جنگ بندی کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم وہ خود فی الحال کسی معاہدے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے NBC News کو دیے گئے ایک طویل ٹیلی فونک انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگرچہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے لیکن وہ اب تک امریکی شرائط پر ڈیل کے لیے تیار نہیں ہوا۔
انٹرویو کے دوران انہوں نے ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی زندگی کے بارے میں بھی شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ زندہ ہیں تو انہیں اپنے ملک کے بہتر مستقبل کے لیے ہتھیار ڈال دینے چاہئیں۔
امریکی صدر نے مزید بتایا کہ گزشتہ روز ایرانی جزیرے خارگ جزیرہ پر امریکی حملوں میں وہاں کی تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے اور ضرورت پڑنے پر مزید کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ امریکا نے ایران کی میزائل اور ڈرون بنانے کی صلاحیت کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے اور آئندہ چند دنوں میں اسے مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔
عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی قیمتوں اور آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس اہم بحری گزرگاہ کو محفوظ بنانے کے لیے چین، فرانس، جاپان اور برطانیہ سمیت دیگر ممالک کے ساتھ مشترکہ منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے اور کئی ممالک اس علاقے میں اپنے جنگی جہاز بھیجنے پر آمادہ ہو چکے ہیں۔
یوکرین کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے وولودیمیر زیلنسکی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ولادیمیر پیوٹن کے مقابلے میں زیلنسکی کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنا زیادہ مشکل ہے۔
واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل کی ایران میں مشترکہ فوجی کارروائی کو دو ہفتے گزر چکے ہیں، جس کے دوران متعدد ہلاکتیں بھی رپورٹ ہو چکی ہیں۔