نیتن یاہو کی ویڈیو پر جعلی ویڈیو کی افواہیں، حقیقت کیا ہے؟

تل ابیب (ویب ڈیسک) – اسرائیلی وزیرِ اعظم Benjamin Netanyahu کی 13 مارچ 2026 کو جاری ہونے والی تازہ ویڈیو سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر زیرِ بحث آ گئی ہے، جہاں بعض صارفین نے ویڈیو میں ہاتھ کی ساخت کو بنیاد بنا کر اسے مبینہ طور پر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ جعلی ویڈیو قرار دیا۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر گردش کرنے والی پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ ویڈیو میں چھ انگلیاں نظر آ رہی ہیں، جس کے بعد قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں کہ یہ ویڈیو شاید مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کی گئی ہے۔ اس سے قبل بھی نیتن یاہو کے بارے میں ایرانی حملے میں ہلاکت کی غیر مصدقہ افواہیں گردش کرتی رہی ہیں۔

تاہم اب تک کسی معتبر ذریعے سے نہ تو ان کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے اور نہ ہی ویڈیو کے جعلی ہونے کا کوئی ٹھوس ثبوت سامنے آیا ہے۔ حقائق کی جانچ میں ایسے دعوؤں کی تائید کے لیے کوئی قابلِ اعتماد شواہد نہیں ملے۔
مصدقہ ذرائع کے مطابق اسرائیلی وزیرِ اعظم معمول کے مطابق عوامی بیانات جاری کر رہے ہیں اور ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران سرکاری سرگرمیوں میں شریک ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر وائرل ہونے والی ویڈیوز اور تصاویر کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنے سے پہلے مستند ذرائع سے تصدیق ضروری ہے، کیونکہ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کے ذریعے گمراہ کن مواد تیزی سے پھیل سکتا ہے۔