ایران اسرائیل جنگ: تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک جانے کا خدشہ، قطر کے وزیر توانائی کا انتباہ

مشرق وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ نے عالمی توانائی کی منڈیوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے اور تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہغیر ملکی میڈیا کے مطابق قطر کے وزیر توانائی سعد الکعبی نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ کے باعث خلیجی ممالک کی توانائی کی پیداوار متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر خام تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔ایک انٹرویو میں سعد الکعبی نے کہا کہ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی عالمی توانائی کی سپلائی کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔ اگر صورتحال مزید خراب ہوتی ہے تو خلیجی ممالک کے توانائی برآمد کنندگان چند دنوں میں پیداوار روکنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوگا جس سے دنیا بھر میں مہنگائی اور معاشی عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔قطری وزیر توانائی کے مطابق اگر جنگ فوری طور پر ختم بھی ہو جائے تو عالمی سطح پر تیل اور گیس کی سپلائی چین کو معمول پر آنے میں کئی ہفتوں یا مہینوں کا وقت لگ سکتا ہے۔دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے جو 2022 کے بعد پہلی بار ہوا ہے۔برینٹ خام تیل کی قیمت 23 فیصد اضافے کے بعد 114.36 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جبکہ امریکی خام تیل 27 فیصد اضافے کے بعد 115.11 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔یاد رہے کہ اس سے قبل ایرانی فوج کے ترجمان نے بھی بیان دیا تھا کہ اگر دشمن 200 ڈالر فی بیرل تک تیل کی قیمت برداشت کر سکتا ہے تو جنگ جاری رکھے۔