الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق امریکی فوج کو ہتھیاروں کے ذخیرے میں کمی کا سامنا ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایران پر جاری حملوں کے دوران۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چند ہفتوں میں امریکا کے اہم انٹرسیپٹر میزائل ختم ہو سکتے ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز ہتھیاروں کے لامحدود ذخائر کا دعویٰ کیا، تاہم پینٹاگون سے لیک معلومات کے مطابق اگر ایران پر حملے 10 دن سے زائد جاری رہیں تو کچھ اہم میزائل ذخائر کم ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ دفاعی کمپنیوں کے ایگزیکٹیوز سے ملاقات کریں گے تاکہ اسلحہ سازی کی رفتار تیز کرنے پر بات ہو سکے۔ نائب امریکی وزیر دفاع 50 ارب ڈالر کے اضافی بجٹ کی تیاری کر رہے ہیں۔
ریتھیون کمپنی ٹوماہاک میزائلز کی سالانہ پیداوار ایک ہزار تک بڑھانا چاہتی ہے، جبکہ دیگر کمپنیاں دباؤ میں ہیں کہ شیئر ہولڈرز کو منافع دینے کی بجائے پیداوار بڑھانے پر توجہ دیں۔وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق پینٹاگون اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف طویل مہم کے خطرات سے آگاہ کیا تھا، جبکہ واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا کہ جنرل کین نے کہا کہ اہم اسلحے کی کمی اور محدود اتحادی حمایتایران کے ممکنہ جوابی حملے کو روکنے میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔امریکی اسلحہ ذخائر، بشمول میزائل دفاعی نظام کے ہتھیار، اسرائیل اور یوکرین کی حمایت میں استعمال کے باعث دباؤ میں ہیں۔ صدر ٹرمپ نے میڈیا رپورٹس پر برہمی ظاہر کی اور کہا کہ جنرل کین نے ایسی وارننگ نہیں دی اور وہ ایران کے ساتھ جنگ پر یقین رکھتے تھے