کراچی: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور فضائی حدود کی اچانک بندش کے باعث مختلف ایئر لائنز کے 3 طیارے 28 فروری سے کراچی ایئرپورٹ پر موجود ہیں۔ذرائع کے مطابق 28 فروری کو اچانک فضائی حدود بند ہونے کے سبب پاکستان کی فضائی حدود سے گزرنے والی 27 پروازوں نے کراچی ایئرپورٹ پر لینڈنگ کی۔ ان میں ٹیکنیکل لینڈنگ، ڈائیورژن اور ری روٹ شامل ہیں۔پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (PAA) کے ترجمان نے بتایا کہ عالمی ہوا بازی کی تنظیم آئیکاؤ کی ہدایات پر آپریشنل کرائسز کنٹرول (OCC) تمام ایئرپورٹس پر فعال ہیں۔ 28 فروری کو کراچی ایئرپورٹ پر 15 سے زائد طیاروں کی ڈائیورژن ہوئی، جن میں 12 طیارے روانہ ہو گئے لیکن غیر ملکی ایئر لائنز کے 3 طیارے اب بھی پارکنگ میں موجود ہیں، جن میں قطر ایئر ویز، فلائی دبئی اور ایئر عریبیہ شامل ہیں۔ان طیاروں کے تمام مسافر 28 فروری سے کراچی کے ہوٹلوں میں مقیم ہیں اور ایئر لائنز اپنے مسافروں کو متبادل پروازوں کے ذریعے منزل مقصود پر پہنچا رہی ہیں۔ تھائی ایئر کی 67 سے زائد پروازوں کے مسافر چارٹرڈ طیاروں کے ذریعے روانہ کیے گئے۔پی اے اے ذرائع کے مطابق غیر ملکی ایئر لائنز کی کراچی آمد سے پارکنگ فیس کے طور پر ہزاروں ڈالر کا ریونیو حاصل ہوا۔ دوسری جانب پاکستانی ایئر لائنز کے 2 طیارے بھی تین دن سے یو اے ای میں پھنسے ہوئے ہیں، جن میں ایک پی آئی اے کا ایئربس 320 اور دوسرا ایر سیال کا ایئربس شامل ہے۔فضائی حدود بندش کے باعث یہ طیارے پاکستان نہیں پہنچ سکے اور بیشتر مسافروں کو ایئر لائنز کی جانب سے ہوٹل منتقل کیا گیا ہے۔