وفاقی حکومت 10 روپے کے نوٹ کو سکے میں تبدیل کرنے پر غور کر رہی ہے، اربوں روپے کی بچت ممکن

وفاقی کابینہ کی جانب سے 10 روپے کے نوٹ کو سکے میں تبدیل کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے، جس کا مقصد قومی خزانے کو اربوں روپے کے اضافی اخراجات سے بچانا ہے۔یہ تجویز اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور پاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کی رپورٹ کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے اور وزیرِ خزانہ کی قیادت میں اعلیٰ سطحی کمیٹی نے کابینہ کے سامنے پیش کی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایک کاغذی نوٹ معمولی استعمال کے بعد صرف 6 سے 9 ماہ میں ضائع ہو جاتا ہے، جبکہ سکے 20 سے 30 سال تک گردش میں رہ سکتے ہیں۔سالانہ 10 روپے کے نوٹ کی چھپائی اور دیکھ بھال پر 8 سے 10 ارب روپے خرچ ہوتے ہیں، جب کہ سکے پر منتقلی سے اگلے 10 سالوں میں 40 سے 50 ارب روپے کی بچت ممکن ہے۔اسٹیٹ بینک کے مطابق سالانہ چھپنے والے کل نوٹوں میں 35 فیصد حصہ صرف 10 روپے کے نوٹوں کا ہوتا ہے۔ اسٹیٹ بینک اگلے تین سالوں کے دوران 10 روپے کے نوٹ کی چھپائی مکمل طور پر ختم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جسے قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے عمل میں لایا جائے گا۔10 روپے کے سکے پہلی بار 24 اکتوبر 2016 کو جاری کیے گئے تھے۔ کاغذی نوٹوں کو سکوں میں منتقل کرنے سے گرین بینکنگ کے ماحول دوست اقدامات کو بھی فروغ ملے گا۔یہ اقدام پاکستان سے پہلے برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا جیسے ممالک میں بھی کیا جا چکا ہے۔