وزیراعظم شہباز شریف 18 فروری کو سرکاری دورے پر واشنگٹن ڈی سی پہنچیں گے جہاں وہ 19 فروری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی میزبانی میں منعقد ہونے والے ’بورڈ آف پیس‘ کے پہلے اجلاس میں شرکت کریں گے۔سفارتی ذرائع کے مطابق یہ اہم سربراہی اجلاس یو ایس انسٹی ٹیوٹ آف پیس میں منعقد ہوگا، جس کا بنیادی مقصد غزہ میں جاری جنگ بندی کو مستحکم کرنا اور متاثرہ علاقوں کی تعمیرِ نو کے لیے عالمی سطح پر فنڈ ریزنگ کی حکمت عملی طے کرنا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس موقع پر فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے بھی دورہ واشنگٹن کا امکان ہے، تاہم اس حوالے سے سرکاری سطح پر حتمی اعلان سامنے نہیں آیا۔’بورڈ آف پیس‘ کی تجویز جنوری 2026 میں ورلڈ اکنامک فورم کے دوران پیش کی گئی تھی، جس کی منظوری کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس بورڈ کے چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔اس اجلاس میں پاکستان سمیت سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر، قطر، بحرین، ترکی، ہنگری، مراکش، کوسوو، البانیہ، بلغاریہ، ارجنٹینا، پیراگوئے، قازقستان، منگولیا، ازبکستان، انڈونیشیا اور ویتنام کے ائندگان شریک ہوں گے۔تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اجلاس مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور غزہ کی تعمیر نو کے حوالے سے اہم پیش رفت کا باعث بن سکتا ہے۔