سپریم کورٹ کا حکم: بانی پی ٹی آئی کا 16 فروری سے قبل طبی معائنہ اور بچوں سے فون پر بات کرائی جائے

سپریم کورٹ نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کے جیل میں طبی معائنے اور سہولتوں سے متعلق اہم حکم جاری کر دیا۔ عدالت نے ہدایت کی ہے کہ ان کی آنکھ کا معائنہ 16 فروری سے قبل کرایا جائے اور انہیں اپنے بچوں سے فون پر بات کرنے کی سہولت بھی دی جائے۔

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے بانی پی ٹی آئی کی صحت اور جیل میں فراہم کی جانے والی سہولتوں سے متعلق رپورٹ پر سماعت کی۔

عدالت میں فرینڈ آف کورٹ بیرسٹر سلمان صفدر کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ پیش کی گئی۔ بیرسٹر سلمان صفدر نے بتایا کہ انہوں نے 10 فروری کو عمران خان سے جیل میں تین گھنٹے طویل ملاقات کی، جس کے بعد یہ رپورٹ مرتب کی گئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ بانی پی ٹی آئی نے جیل میں سیکیورٹی انتظامات اور کھانے پینے کی سہولتوں پر اطمینان کا اظہار کیا۔ تاہم طبی معائنے کے حوالے سے سفارش کی گئی تھی کہ یہ کسی فیملی ممبر کی موجودگی میں کرایا جائے، جسے عدالت نے مسترد کر دیا۔

سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ عمران خان کی آنکھ کا چیک اپ 16 فروری سے پہلے ڈاکٹروں کی خصوصی ٹیم کے ذریعے کرایا جائے۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ انہیں اپنے بچوں سے فون پر بات کرنے کا موقع 16 فروری سے قبل فراہم کیا جائے۔

سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت عدالتی حکم پر عملدرآمد کرتے ہوئے مقررہ تاریخ سے قبل دوبارہ طبی معائنہ اور فون کال کی سہولت یقینی بنائے گی۔