اسلام آباد: متنازع ٹویٹس کیس میں سزا پانے والی ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے لاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل دائر کر دی ہے، جبکہ سزا معطل کر کے ضمانت پر رہائی کی درخواست بھی دے دی گئی یلات کے مطابق اپیل میں 24 جنوری کو سنائے گئے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔ اپیل گزاروں کا مؤقف ہے کہ ٹرائل کورٹ نے قانونی تقاضے پورے کیے بغیر قانون کے برعکس فیصلہ سنایا۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ کیس کی ٹرانسفر درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر التوا تھی، اس کے باوجود ٹرائل کورٹ نے فیصلہ سنا دیا، حالانکہ قانون کے مطابق ٹرانسفر درخواست زیر التوا ہونے کی صورت میں فیصلہ نہیں سنایا جا سکتا۔اپیل میں مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ٹرائل کورٹ نے حقِ دفاع ختم کر کے شفاف ٹرائل کے بنیادی اصولوں کو نظر انداز کیا، جبکہ اسٹیٹ کونسل کی جانب سے سوالات پہلے سے فراہم کیے جانے کی شکایت پر بھی عدالت نے کوئی تحقیقات نہیں کرائیں۔درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ ٹرائل کورٹ میں پیشی کے لیے جاتے ہوئے گرفتاری کے دوران تشدد کیا گیا، تاہم ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری کے وقت عدالت نے تشدد کے الزامات کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔اپیل میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ بغیر فائل کے جیل سے ویڈیو لنک کے ذریعے جرح کس طرح ممکن تھی۔ اپیل گزاروں نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے استدعا کی ہے کہ ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر انہیں ضمانت پر رہا کیا جائے۔