ترلائی امام بارگاہ خودکش حملے میں شہدا کی تعداد 33 ہو گئی، 91 زخمی زیر علاج

اسلام آباد: ترلائی امام بارگاہ پر خودکش حملے کے زخمیوں کی تفصیلات جاری کر دی گئی ہیں، جبکہ سانحے میں شہدا کی تعداد بڑھ کر 33 ہو گئی ہے۔اسپتال ذرائع کے مطابق حملے کا ایک اور زخمی، 21 سالہ محمد عباس مہدی، آج دم توڑ گیا۔ عباس مہدی کو گزشتہ روز پمز اسپتال منتقل کیا گیا تھا اور وہ نجی یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھا۔تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق حملے یں زخمی ہونے والے 91 افراد اسلام آباد اور راولپنڈی کے اسپتالوں میں زیر علاج ہیں، جن میں 89 اسلام آباد اور 2 ولپنڈی کے اسپتالوں میں داخل ہیں۔ذرائع کے مطابق پمز اسپتال سے مزید 11 زخمی ڈسچارج کر دیے گئے ہیں، جبکہ 65 زخمی تور زیر علاج ہیں، جن میں 24 کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ اب کپمز سے 55 زخمیوں کو گھروں کو بھیج دیا گیا ہے۔ی کلینک اسپتال میں 15 زخمی زیر علاج ہیں، جن میں 5 کی حالت یشناک ے، فیڈرل جنرل اسپتال میں 4 زخمی زیر علاج ہیں اور 6 کو ڈسچارج کیا جا چکا ہے۔ اسلام آباد کے دو نجی اسپتالوں میں 4 زخمی زیر علاج ہیں، بینظیر بھٹو اسپتال راولپنڈی میں 2 اور کیپیٹل اسپتال میں ایک زخمی زیر علاج ہے۔ذرائع کے طابق گزشتہ روز پمز اسپتال میں 149 زخمی اور 28 لاشیں لائی گئی تھیں، پولی کلینک میں 19 زخمی اور 4 لاشیں، جبکہ فیڈرل جنرل اسپتال چک شہزاد میں 31 زخمی منتقل کیے گئے تھے۔اگر آپ چاہیں تو میں اسے مزید مختصر بریکنگ نیوز اسٹائل میں بھی بنا دوں، جو ویب یا سوشل میڈیا کے لیے آسان ہو۔