کراچی کے سول اسپتال کے باہر شہریوں نے پولیس کے خلاف احتجاج کیا، جس میں مظاہرین نے دعویٰ کیا کہ عبدالواسع نامی شخص پولیس کی حراست میں تشدد کا شکار ہو کر ہلاک ہوا۔ عبدالواسع کو چوری کے 27 لاکھ روپے کے کیس میں گرفتار کیا گیا تھا۔اہلخانہ اور شہری مطالبہ کر رہے ہیں کہ پولیس کی حراست میں عبدالواسع کی ہلاکت کے خلاف کارروائی کی جائے، تاہم پولیس کا مؤقف ہے کہ عبدالواسع دوران علاج اسپتال میں ہلاک ہوا۔تفتیشی پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم عبدالواسع کو دوران حراست اسپتال منتقل کیا گیا تھا کیونکہ اس کی طبیعت خراب ہوئی تھی، اور اسے کسی بھی قسم کا تشدد نہیں پہنچایا گیا۔ پولیس کے مطابق ملزم نے آئس اور ہیروئن کا نشہ کیا ہوا تھا، اور یہی نشہ دوران علاج ہلاک ہونے کی بنیادی وجہ بنی۔پولیس کے مطابق، 30 جنوری کو ڈاکس تھانے میں 27 لاکھ روپے کی چوری کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، اور تکنیکی بنیادوں پر ملزم کو حراست میں لیا گیا۔ اس دوران ملزم سے 4 لاکھ روپے کی نقدی بھی برآمد ہوئی۔پولیس نے مزید بتایا کہ ملزم ماضی میں بھی چوری کے مقدمات میں گرفتار ہوچکا تھا، اور اس پر تھانہ ماڑی پور، سپر مارکیٹ اور پریڈی میں چوری کے پانچ مقدمات درج ہیں۔ علاوہ ازیں، ملزم نشہ آور اشیا استعمال کرتا تھا۔