وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی پہلی باضابطہ ملاقات، دہشت گردی کے خلاف تعاون کی یقین دہانی

وزیراعظم شہباز شریف اور خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی پہلی باضابطہ ملاقات ہوئی ہے، جس میں دونوں رہنماؤں نے قومی امور پر بات چیت کی۔مشیر وزیراعظم برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے اے آر وائی کے پروگرام “باخبر سویرا” میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ملاقات مثبت رہی اور اس دوران سیاسی معاملات پر گفتگو نہیں ہوئی۔ تاہم دہشت گردی کے خلاف آپریشن میں خیبر پختونخوا کی حکومت کی حمایت پر یقین دہانی کرائی گئی۔
رانا ثنا اللہ کے مطابق دہشت گرد بھارت اور افغانستان کے آلہ کار ہیں، اور سیکیورٹی فورسز خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ سہیل آفریدی نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں تعاون کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ آپریشن کی ذمہ داری صوبائی حکومت کی ہے، دہشت گردوں کو کسی صورت راستہ نہیں ملنا چاہیے۔مشیر وزیراعظم نے بتایا کہ ملاقات میں صوبے میں سی ٹی ڈی کی فنڈنگ میں اضافے اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں تعاون پر بھی بات ہوئی۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے یقین دلایا کہ وہ آئینی و قانونی دائرہ کار میں اپنا کردار ادا کریں گے۔رانا ثنا اللہ نے کہا کہ بھارت اور افغانستان میں کچھ عناصر پاکستان کے وجود کو تسلیم نہیں کرتے، اور یہ دہشت گرد بھارت و افغانستان کے آلہ کار کے طور پر کے پی اور بلوچستان میں کارروائیاں کر رہے ہیں۔ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے تقریباً 200 دہشت گردوں کو شکست دی ہے۔ افغانستان کے ساتھ مذاکرات میں دوست ممالک بھی شامل ہیں اور پاکستان ان معاملات کو افغان حکام کے سامنے اٹھائے گا۔