لاہور ہائیکورٹ کا 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کیس میں وفاقی حکومت سے جواب طلب

لاہور ہائیکورٹ نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کے حوالے سے وفاقی حکومت اور دیگر متعلقہ اداروں سے جواب طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے 10 فروری تک جواب طلب کیا اور کہا کہ یہ پالیسی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی سینیٹر فلک ناز نے بھی 18 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا، خاص طور پر ٹک ٹاک، پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔ آسٹریلیا پہلے ملک کے طور پر 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کر چکا ہے، جبکہ والدین اور بچوں کے حقوق کے کارکن خوشی کا اظہار کر رہے ہیں، لیکن بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور آزادی اظہار کے حامی اس پر تنقید کر رہے ہیں۔