محکمہ تعلیم سندھ نے اسکولوں میں رہائش اختیار کرنے اور کمرشل سرگرمیاں انجام دینے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ایسے تمام غیر قانونی استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ محکمہ تعلیم کے مطابق نجی اسکولوں کی عمارتیں صرف تعلیمی مقاصد کے لیے استعمال کی جائیں گی اور اسکولوں میں دکانیں قائم کرنا یا رہائش بنانا قوانین کی سنگین خلاف ورزی تصور ہوگی۔محکمہ تعلیم نے صوبے بھر کے تمام نجی اسکولوں کی انسپکشن کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے تحت اسکول انتظامیہ کو اسٹرکچرل فٹنس سرٹیفکیٹ جمع کروانا ہوگا۔ خستہ حال یا غیر محفوظ عمارتوں میں قائم اسکولوں کو فوری طور پر خالی کرانے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔محکمہ تعلیم کا کہنا ہے کہ پابندی کی خلاف ورزی کی صورت میں اسکول کی رجسٹریشن معطل یا منسوخ کی جا سکتی ہے جبکہ غیر تعلیمی سرگرمیوں میں ملوث اسکولوں کو سیل بھی کیا جا سکتا ہے۔محکمہ تعلیم نے خبردار کیا ہے کہ اسکول کے اندر کسی بھی حادثے کی مکمل ذمہ داری اسکول انتظامیہ پر عائد ہوگی، جبکہ کرپشن میں ملوث ایجوکیشن افسران کے خلاف بھی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔