امریکا میں جان لیوا سردی کا راج 14 ریاستوں میں 38 ہلاکتیں 200 ملین افراد کے لیے وارننگ

امریکا میں شدید سردی اور طاقتور سردیوں کے طوفان کے باعث ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ وسطی اور مشرقی امریکا شدید سردی کی لپیٹ میں ہیں، جہاں سردیوں کے طوفان کے نتیجے میں درجنوں افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔روئٹرز کے مطابق منگل تک امریکا کی 14 ریاستوں میں 38 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر اموات ہائپوتھرمیا اور دل کا دورہ پڑنے کے باعث ہوئیں۔ نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کے مطابق صرف نیویارک میں 10 افراد سردی کے باعث جان سے گئے ہیں۔میئر کے مطابق کڑاکے کی سردی سے بچاؤ کے لیے 500 سے زائد بے گھر افراد کو پناہ گاہوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ شدید سردی کی یہ لہر یکم فروری تک برقرار رہنے کا امکان ہے، جبکہ 200 ملین سے زائد شہریوں کے لیے سردی کی وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ مشرقی امریکا میں ہفتے کے اختتام پر ایک نیا طوفان آنے کا خدشہ ہے۔ اس سردی کے طوفان نے وسیع علاقوں کو شدید برفباری، جمتی ہوئی بارش اور نقطۂ انجماد سے کم درجہ حرارت کی لپیٹ میں لے رکھا ہے، جس کے باعث ٹریفک معطل، پروازیں منسوخ اور بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔