قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور نے سفارش کی ہے کہ سرکاری خرچ پر عمرہ ادا کرنے کے لیے جانے والا پارلیمانی وفد پاکستانی عوام کی جانب سے عمرہ ادا کرے گا۔ قائمہ کمیٹی نے پارلیمانی وفد کو سرکاری اخراجات پر عمرہ ادا کرنے کے لیے بھجوانے کی سفارش کی ہے۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ یہ وفد پہلے بھی عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے عمرہ ادا کر چکا ہے اور اب ہر سال مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ جائے گا۔کمیٹی کے مطابق وفد میں شامل ارکان کے اہل خانہ بھی ہمراہ جا سکیں گے تاہم رشتہ داروں کو سرکاری وفد میں شامل ہونے کی صورت میں اپنے اخراجات خود برداشت کرنا ہوں گے۔ اسپیکر قومی اسمبلی کی عدم موجودگی میں چیئرمین قائمہ کمیٹی وفد کی سربراہی کریں گے۔قائمہ کمیٹی نے وفد کے ارکان کی تعداد 7 سے بڑھا کر 10 کرنے کی تجویز دی ہے، جب کہ وفد کے ارکان کی نامزدگی اسپیکر قومی اسمبلی کریں گے۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ وفد کے تمام اخراجات قومی اسمبلی برداشت کرے۔چیئرپرسن قائمہ کمیٹی شگفتہ جمانی نے کہا کہ روضہ رسول ﷺ پر پاکستانی عوام کی جانب سے سلام پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے وفاقی وزیر مذہبی امور سے مطالبہ کیا کہ اسپیکر قومی اسمبلی کو باضابطہ خط لکھا جائے۔وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف نے قائمہ کمیٹی کی سفارشات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وزارت مذہبی امور پارلیمانی وفد کو تمام ممکنہ سہولیات فراہم کرے گی اور وفد کے لیے لائیزن افسر بھی تعینات کیا جائے گا۔