پاکستان میں فائیو جی اسپیکٹرم نیلامی کا آغاز وفاقی حکومت نے پالیسی ڈائریکٹو جاری کر دیا

رورساں فبروری میں پاکستان میں فائیو جی (5G) اسپیکٹرم کی نیلامی کے لیے راہ ہموار ہو گئی ہے، وفاقی حکومت نے اس سلسلے میں پالیسی ڈائریکٹو جاری کر دیا ہے۔ملک میں براڈ بینڈ صارفین کی تعداد 15 کروڑ 20 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، اور ان کی سہولت کے لیے 700، 1800، 2100، 2300، 2600 اور 3500 میگا ہرٹز بینڈز میں اسپیکٹرم نیلامی کی جائے گی۔ پی ٹی اے کو شفاف اور مسابقتی نیلامی کرانے کی ہدایت دی گئی ہے۔پالیسی ڈائریکٹو کے مطابق موجودہ موبائل آپریٹرز اور نئے سرمایہ کار دونوں اس نیلامی میں حصہ لے سکیں گے۔ مختلف بینڈز کی بنیادی قیمتیں یوں مقرر کی گئی ہیں:700 میگا ہرٹز: 65 لاکھ ڈالر فی میگا ہرٹز 1800 اور 2100 میگا ہرٹز: 1 کروڑ 40 لاکھ ڈالر فی میگا ہرٹز 2300 میگا ہرٹز: 10 لاکھ ڈالر فی میگا ہرٹز 2600 میگا ہرٹز: 12 لاکھ 50 ہزار ڈالر فی میگا ہرٹز3500 میگا ہرٹز: 6 لاکھ 50 ہزار ڈالر فی میگا ہرٹز نیلام شدہ اسپیکٹرم ٹیکنالوجی نیوٹرل ہوگا، اور کسی ایک ٹیکنالوجی کی پابندی نہیں ہوگی۔ لائسنس یافتہ آپریٹرز کو 15 سال کے لیے نیا لائسنس دیا جائے گا، جبکہ اسپیکٹرم ٹریڈنگ اور شیئرنگ کی اجازت بھی ہوگی۔ وفاقی حکومت نے فروری کے وسط تک نیلامی مکمل کرنے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے، جس کے بعد پی ٹی اے انفارمیشن میمورنڈم جاری کرے گا۔ یہ اقدام جدید اور سستی موبائل سروسز کی فراہمی کے لیے اہم ہے۔