وزیراعظم شہباز شریف نے کمرشل بینکوں سے قرضوں کے حصول کے طریقہ کار کو مزید آسان بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوانوں کو کاروباری تربیت فراہم کی جائے تاکہ معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہو۔اسلام آباد میں مالیاتی شمولیت، چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز)، اسٹارٹ اپس اور چھوٹے کسانوں کو قرضوں کی فراہمی سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو ہدایت دی کہ بینکنگ سیکٹر کے ذریعے ایس ایم ایز اور زرعی شعبے کے لیے قرضوں کا نظام مؤثر اور سہل بنایا جائے۔اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور تمام صوبوں و علاقوں کے چیف سیکریٹریز شریک ہوئے۔وزیراعظم نے زراعت میں جدت کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ زرعی خدمات فراہم کرنے والے اداروں کو ترجیحی بنیادوں پر کریڈٹ کی سہولت فراہم کی جائے کیونکہ ترقی یافتہ معیشتوں میں ایس ایم ایز کو معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے۔انہوں نے سمیڈا اور معاون خصوصی ہارون اختر کو ہدایت دی کہ گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر سمیت تمام صوبوں کا دورہ کر کے ایس ایم ایز کے لیے جامع قومی پالیسی مرتب کی جائے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نجی شعبے، بالخصوص ایس ایم ایز اور چھوٹے کسانوں کو جدید ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے قرضوں کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اس پیش رفت کی وہ خود نگرانی کریں گے اور قرضوں کے عمل کو مزید آسان بنانے کے لیے ذیلی کمیٹی بھی قائم کی جائے گی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ دسمبر 2025 تک قرض لینے والوں کی تعداد بڑھ کر 3 لاکھ 3 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ قرضوں کا مجموعی حجم 1.1 ٹریلین روپے تک پہنچ چکا ہے۔ اسٹیٹ بینک نے چھوٹے کسانوں کے لیے ڈیجیٹل زرخیز ایپ بھی لانچ کر دی ہے۔