بلوچستان کے باسی آج دوسرے دن بھی موبائل انٹرنیٹ بندش کا سامنا کر رہے ہیں۔ تھری جی اور فورجی سروسز کی معطلی نے نہ صرف طلبا، فری لانسرز اور کاروباری افراد کو پریشان کر دیا ہے بلکہ روزمرہ زندگی بھی بری طرح متاثر ہو گئی ہے۔
محکمہ داخلہ بلوچستان کے مطابق یہ اقدام سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے، اور ایک سرکاری مراسلے میں 31 اگست 2025 تک سروسز بند رکھنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ یعنی آئندہ کئی ہفتے صارفین انٹرنیٹ سے محروم رہ سکتے ہیں۔
اس بندش کا اثر ہر شعبے پر پڑ رہا ہے —
📉 بینکنگ سسٹم میں خلل،
📚 آن لائن کلاسز میں رکاوٹ،
💼 دفاتر کے درمیان رابطہ منقطع،
📶 اور عام صارفین کی معلومات تک رسائی بھی مشکل ہو گئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ صرف سیکیورٹی کی بہتری کے لیے کیا گیا ہے، لیکن عوامی ردعمل اس وقت خاصا منفی ہے۔ لوگ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا سیکیورٹی کے نام پر ڈیجیٹل زندگی کو یوں مفلوج کر دینا واقعی واحد حل ہے؟
یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ بلوچستان میں اس سے قبل بھی سیکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر انٹرنیٹ سروسز معطل کی جاتی رہی ہیں، لیکن اس بار ممکنہ طویل بندش نے شہریوں کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔