جعلی یا فلائنگ انوائسز کے ذریعے ٹیکس چوری پر قابو پانے کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے تاجروں اور صنعتکاروں کی گرفتاری سے متعلق بڑے قواعد و ضوابط متعارف کرا دیے ہیں — اور یہ تبدیلیاں ہر بزنس مین کو جاننا لازمی ہیں!
🔍 نئے ضوابط میں کیا کچھ شامل ہے؟
- ثبوت کی بنیاد پر کاروباری افراد کی رجسٹریشن معطل اور بلیک لسٹ کی جائے گی۔
- کسی بھی کارروائی سے پہلے 7 دن میں شوکاز نوٹس دینا لازمی ہوگا۔
- ٹیکس چوری پر براہ راست ایف آئی آر درج کی جائے گی۔
👥 تاجروں سے مشاورت لازمی قرار
- گرفتاری سے قبل متعلقہ تاجر تنظیم کے کم از کم دو نمائندوں سے مشورہ لیا جائے گا۔
- یہ شرط تاجروں کے تحفظ کے لیے رکھی گئی ہے تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
🧠 کس نے فیصلہ کرے گا؟
- کمشنر ان لینڈ ریونیو ہی انکوائری کی اجازت دے گا۔
- گرفتاری سے قبل ایف بی آر کے ممبر ان لینڈ ریونیو آپریشنز کی باقاعدہ منظوری لینا ضروری ہوگی۔
🧾 ڈیٹا اینالیسس کا نیا عمل:
- جعلی انوائسز کی نشاندہی ٹیکس مشینری کے Assessment Processing Cell کرے گا۔
- کم از کم دو افسران ڈیٹا کا تجزیہ کریں گے، جس میں خرید و فروخت، گوشوارے، اور دیگر ٹرانزیکشنز شامل ہوں گی۔
⚠️ سرکاری اہلکار بھی بچ نہیں سکیں گے
- صرف تاجر ہی نہیں، بلکہ اگر کوئی سرکاری افسر یا ادارہ کا اہلکار سہولت کاری میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔