جگدیش آہوجا
مجھے کل 5 اگسٹ 2025ع کے پی ٹی آئی ورکرز کے احتجاج و مزاحمت پر حیرت بھی ہوئی ہے اور خوشی بھی!
سب سے پہلے تو میں یہ واضح کردوں کہ میں ذاتی طور پر عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کا مداح نہیں نقاد ہوں اور سیاسی طور پر اتحادی ہوں۔ بحیثیت جنرل سیکرٹری سندھ یونائیٹڈ پارٹی جو کہ اب تحریک تحفظ آئین پاکستان میں شامل ہوئی ہے، میرا تعلق پی ٹی آئی کی اتحادی جماعت سے ہے اور سندھو دریا بچاؤ تحریک میں ہم نے مل کر کام کیا ہے۔
31 جولاء اور 1 آگسٹ 2025ع کو جب ہم آل پارٹیز کانفرنس اسلام آباد میں سب کے ساتھ مل رہے تھے اور پی ٹی آئی کے خلاف فیصلوں کی بارش ہو رہی تھی تو ہمیں بظاہر وہ گرمی و تلخی، وہ سرگرمی و مزاحمت کہیں نظر نہیں آئی جو ایسے مواقع پر اک سیاسی پارٹی کے رہنماؤں و ورکرز میں دکھائی دیتی ہے حتیٰ کہ ہم جو ان کے اتحادی تھے اور احتجاج و مزاحمت کی اک تاریخ رکھتے ہیں، ہم حیران و پریشاں تھے کہ اتنی ملگ گیر اپوزیشن ان کے سائے تلے اکٹھی بیٹھی ہے اور ماسوائے مذمت کے کچھ بھی نہیں ہورہا! نہ کوئی احتجاج کی کال نہ کوئی لائین اف ایکشن، حتیٰ کہ پہلے سے اعلان کردہ 5 اگست کے احتجاج میں ساتھ دینے کی بھی کوئی اپیل نہیں!
ہم تیار تھے کہ گر ایسی کوئی حکمت عملی بنتی ہے، اکٹھے ٹی ٹی اے پی کے پلیٹ فارم سے یا آل پارٹیز کانفرنس کے جوائنٹ آپوزیشن پلیٹ فارم سے تو ہم سندھ میں اپنے پارٹی ورکرز کو پی ٹی آئی ورکرز کا ساتھ دینے کی ھدایت جاری کردیتے۔ لیکن ہمیں ایسی کوئی پالیسی و حکمت عملی نظر نہیں آئی اور ہمیں ایسا لگا کہ مزاحمت کم مایوسی زیادہ ہے۔
لیکن 5 اگسٹ 2025ع کو پی ٹی آئی ورکرز نے جس طرح مزاحمت کا علم بلند کیا ہے میں ان کی ہمت، جرآت و مزاحمت کو سلام پیش کرتا ہوں۔
جھوٹ اور خوشامد سے طلسماتی کاک محل تو بن سکتے ہیں لیکن سچی خوشی نہیں ملتی، سچ اور مزاحمت کی راہ ہے تو کانٹوں کی سیج لیکن بامعنی پرمسرت زندگی کی شاہراہ تو بس وہی ہے۔
میرے حصے کا تلخ سچ یہ ہے کہ مجھے پی ٹی آئی ورکرز، پولیٹیکل ورکرز نہیں بس عمران خان کے مداح نظر آئے ہیں۔ اور سب تجربہ کار انسان جانتے ہیں کہ اندھی عقیدت اپنے منطقی انجام میں انسان کو اندھیرے کا سفیر بنا دیتی ہے۔ ہاں، مزاحمت ہی اک ایسا راستہ ہے جہاں پر روشنی کی بارش ہوتی ہے اور سوچ کے دریچوں سے سچ کی روشنی دل و دماغ کو گرمانے لگتی ہے۔ بس میں دعاگو ہوں کہ یہ نئی نسل، یہ عمران خان کے مداح، پی ٹی آئی ورکرز، شاہراہ مزاحمت کے نئے مسافر، ہمارے نئے ہمسفر، مزاحمت کے ساتھ ساتھ پولیٹیکل ایجوکیشن کی طرف بھی کچھ رجوع کریں گے۔ گر مایوسی کی دلدل سے بچنا ہے تو پولیٹیکل ایجوکیشن لازمی شرط ہے اور پولیٹیکل ایجوکیشن کا پہلا سبق ہے، ‘فرد فانی ہے، آدرش لافانی ہے’