لاہور میں تیز ہواؤں کے ساتھ ہونے والی موسلا دھار بارش نے موسم کو تو خوشگوار بنا دیا، مگر شہر کے کئی نشیبی علاقے پانی میں ڈوب گئے۔ گرمی اور حبس سے پریشان شہریوں کے لیے بارش کسی نعمت سے کم نہ تھی، لیکن پانی جمع ہونے کے باعث ٹریفک اور نظامِ زندگی متاثر ہوا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق بارش کا یہ سلسلہ تقریباً اڑھائی گھنٹے تک جاری رہا، جس دوران اوسطاً 40.4 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ شہر کے مختلف علاقوں میں درج ذیل مقدار میں بارش ریکارڈ ہوئی:
- پانی والا تالاب: 89 ملی میٹر (سب سے زیادہ)
- ایئرپورٹ: 89 ملی میٹر
- لکشمی چوک: 72 ملی میٹر
- گلبرگ: 49 ملی میٹر
- جیل روڈ: 45 ملی میٹر
- تاج پورہ: 47 ملی میٹر
- چوک ناخدا: 57 ملی میٹر
- سمن آباد: 2 ملی میٹر
شہر کے بڑے علاقوں جیسے مال روڈ، ہال روڈ، مزنگ، چوبرجی، مزنگ، قرطبہ چوک اور سمن آباد میں بارش کے بعد سڑکوں پر پانی جمع ہوگیا، جس سے شہریوں کو آمد و رفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ پی ڈی ایم اے نے ہنگامی صورتحال کے پیش نظر تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ کر دیا ہے۔
دوسری جانب محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ 4 اگست سے ملک بھر میں بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہونے والا ہے، جو مون سون کے چھٹے اسپیل کا حصہ ہوگا۔ یہ سلسلہ پہلے سے موجود سیلابی صورتحال کو مزید خطرناک بنا سکتا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق، اس وقت ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں کمزور مون سون ہوائیں داخل ہو رہی ہیں، جو 4 اگست سے شدت اختیار کریں گی۔ ساتھ ہی 5 اگست تک ایک مغربی سسٹم بھی متحرک ہو جائے گا، جو بارش کے اس نئے سلسلے کو مزید تقویت دے گا۔