وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے پرامن جوہری پروگرام کی کھل کر حمایت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی حاصل کرے، اور پاکستان اس حق کے دفاع میں ایران کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ اسلام آباد میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے ایران کو پاکستان کا “برادر ملک” قرار دیا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کو “بلاجواز جارحیت” کہا۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ایرانی قیادت نے جس دلیری اور استقامت سے دشمن کا سامنا کیا، وہ قابلِ تحسین ہے۔ انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا بھی کی۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ ایران اور پاکستان نہ صرف ہمسایہ بلکہ یکساں سوچ رکھنے والے ممالک ہیں، خاص طور پر دہشتگردی کے خلاف دونوں کی پالیسیوں میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان مفاہمتی یادداشتوں کو جلد باضابطہ معاہدوں میں تبدیل کیا جائے گا، جبکہ 10 ارب ڈالر کا تجارتی ہدف بھی جلد حاصل ہوگا۔ شہباز شریف نے خطے میں امن، ترقی اور خوشحالی کو ایک دوسرے سے جُڑا ہوا قرار دیتے ہوئے کہا کہ غزہ میں اسرائیل انسانی بحران پیدا کر رہا ہے، خوراک کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، اور فلسطینیوں پر ظلم دنیا کی خاموشی کا ماتم کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کی حالت بھی مختلف نہیں، اور وادی کشمیر مظلوموں کے خون سے رنگی ہوئی ہے۔ اس موقع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی پاکستان کی کھل کر حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کا مقصد خطے میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے، جس کے لیے وہ غزہ، لبنان اور شام جیسے علاقوں میں جارحیت کر رہا ہے۔ انہوں نے مسلم دنیا پر زور دیا کہ وہ اتحاد قائم کرے اور سلامتی کونسل کو اسرائیلی مظالم کے خلاف متحرک کرے۔ مسعود پزشکیان نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے رشتے مشترکہ تہذیب، ثقافت اور مذہب پر استوار ہیں، اور علامہ اقبال کی شاعری ایران کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کو آگے بڑھا رہے ہیں، اور سرحدی سیکیورٹی کو بہتر بنانے کے لیے بھی مشترکہ کوششیں جاری ہیں۔