نیپرا ذرائع کے مطابق اس مد میں صارفین پر تقریبا 14 کروڑ 90 لاکھ روپے کا اضافی بوجھ پڑا ہے۔ ہزاروں صارفین کو بغیر کسی جواز کے مجموعی یونٹس کے بلز بھیجے گئے۔ ڈیٹیکشن بلوں کا بوجھ سب سے زیادہ ان پر ڈالا گیا جنہوں نے کم بجلی استعمال کی۔ نیپرا نے سیپکو سے6 ماہ میں جاری ڈیٹیکشن بلز کی تفصیلی رپورٹ 7 روزمیں طلب کر لی ہے۔ سیپکو نے چیمبر آف کامرس کو بھی ڈیٹیکشن بل بھیجا تھا جس پر چیمبر آف کامرس نے سیپکو کے ڈیٹیکشن بل کے خلاف نیپرا میں درخواست جمع کروائی تھی۔ چیمبرآف کامرس کی درخواست پر سیپکو کو علیحدہ سے 7 روز جواب جمع کروانے کا حکم دیا گیا ہے اور سیپکو کو ہدایت کی گئی کہ وہ متنازعہ بلوں کو موخر کرے۔ یہ بھی پڑھیں سیپکو (سکھر) میں جولائی 2019 سے نومبر 2020 تک کرنٹ لگنے سے شہریوں کی اموات کے معاملے پر نیپرا نے سیپکو پر 2کروڑ 80 لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ نیپرا کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ مدت کے دوران بجلی سے 20 افراد کی ہلاکتیں ہوئی تھیں، جس پر اتھارٹی نے تحقیقات کے لیے 3 ارکان پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی تھی، نیپرا تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ میں 20 میں سے 11 اموات میں سیپکو کو قصور وار قرار دیا گیا۔ نیپرا کا کہنا ہے کہ 11 اموات میں 4 سیپکو کے ملازمین جب کہ 7 عام لوگ تھے، اتھارٹی نے نیپرا ایکٹ کے تحت سیپکو کو شوکاز نوٹس بھی جاری کیا، اور سماعت کا موقع دیا۔