چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ بڑے پیمانے پر تباہی مچانے والے ہتھیاروں کا بہانہ بنا کر پہلے عراق پر حملہ کیا گیا، پھر وہ لبنان آئے، یمن آئے اور اب ایران آگئے، اگر ہم اب نہ بولے تو جب وہ ہم پر آئیں گے تو کوئی بولنے والا نہیں ہوگا۔ بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صہیونی ریاست سب سے پہلے فلسطین کی طرف بڑھی، دنیا نے آواز نہیں اٹھائی، اس کے بعد وہ لبنان کی جانب گئے، ہم نے آواز نہیں اٹھائی کیونکہ ہم لبنانی نہیں ہیں، اس کے بعد اسرائیل نے یمن پر حملے کیے ہم نہیں بولے کیونکہ ہم یمنی نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب اسرائیل نے ایران پر حملے شروع کر دیئے ہیں، اگر ہم نے اب بھی آواز نہیں اٹھائی تو اس وقت کچھ بھی نہیں بچے گا جب وہ ہماری جانب آئیں گے، نیتن یاہو جنگوں کو بڑھاوا دے کر تیسری عالمی جنگ کے خطرات کو بڑھا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے ایران کی ملٹری قیادت کو میدان جنگ میں نہیں بلکہ ان کی رہائش گاہوں میں نشانہ بنایا، جوہری سائنسدانوں، صحافیوں اور ان کے اداروں کو ٹارگٹ کیا گیا، صہیونی ریاست نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزری کرتے ہوئے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کیے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اسرائیلی رجیم کی خطے میں بڑھتی ہوئی جارحیت کو روکنا ہوگا، دنیا میں اُس وقت تک امن قائم نہیں ہو سکتا جب تک نیتن یاہو ایران جنگ کا خاتمہ، لبنان کے ساتھ سیز فائر اور غزہ میں بے گناہ فلسطینیوں کی نسل کشی کو ختم نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ ایران میں مسلسل ہونے والے حملوں کے دوران دنیا کو غزہ میں ہونے والی بربریت کو نہیں بولنا چاہیے۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا ہے کہ ایران-اسرائیل جنگ کے دوران امریکا کے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں، ہم ایران پر اس حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کے نتیجے میں اگر لیکج ہو جاتی تو وہ نقصان صرف ایران تک محیط نہیں ہوتا بلکہ پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک کو بھی شدید خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اسرائیلی حکومت امریکا کو زبردستی اس جنگ میں گھسیٹ رہی ہے، امریکا کی عوام اس جنگ کو سپورٹ نہیں کر رہی، یہ ویسا ہی جھوٹ ہے جو اس سے قبل بھی متعدد بار بولا گیا تھا، عراق جنگ کے بعد اب ایران پر بھی خطرناک ہتھیار رکھنے کے الزام میں حملے کیے جارہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس معاملے میں فوری طور پر دیگر ممالک کے وزرائے خارجہ کے ساتھ رابط قائم کرے، جو کہ نہ صرف امریکا کہ اس حملے کی مذمت کریں بلکہ اس ایشو پر یک زباں ہو کر آواز بھی اُٹھائیں، جوہری تنصیبات پر حملوں کو کسی بھی طریقے سے جسٹیفائی نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے خطے میں بھی نیتن یاہو کی ایک سستی کاپی موجود ہے، فخر کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ہم نے اس سستے نیتن یاہو کو جنگ، سفارتی کاری اور بیانیہ کے میدان میں شکست دے دی ہے۔ سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور صدر مملکت آصف علی زرداری نے مجھے اور ہماری کمیٹی کو اہم ذمہ داری دی، ہم فخر کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ ہم جہاں بھی گئے وہاں پاکستان کا مؤقف اور بیانیہ پیش کیا، ہم جہاں جہاں پہنچے، پیچھے پیچھے سستی کاپی کے نمائندے بھی اپنے بیانیے کے ساتھ پہنچ گئے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا پیغام تو امن کا پیغام تھا، ہم ایک جنگ جیت چکے تھے اور ان کے 6 جہاز بھی گرا چکے ہیں، ہمارا موقف تھا کہ ہم نے سیز فائر تو حاصل کر لیا ہے لیکن جب تک اس خطے امن قائم نہیں ہوگا یہ نہ تو پاکستان اور نہ ہی بھارت کے عوام کے مفاد میں ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے پاکستانی وفد کے دورے کے حوالے سے ارکان اسمبلی کو بتایا کہ قومی وفد نے اقوام متحدہ، یورپی یونین اور امریکا میں 3 اہم مسائل پر آواز اُٹھائی۔ انہوں نے کہا کہ سب سے پہلا مسئلہ کشمیر کا تھا، کشمیر کا موقف ہمیشہ پاکستان کے لیے اہم رہا ہے، اقوام متحدہ کی قراردادوں کی مطابق کشمیری عوام کی جو امیدیں اور انہیں جو حقوق حاصل ہیں ہم نے وہ دنیا کے سامنے رکھے۔ چیئرمین پیپلزپارٹی نے مزید کہا کہ 2019 میں پچھلے دور حکومت میں جب کشمیر میں ایک حملہ ہوا تو اُس وقت کے وزیراعظم نے کہا کہ میں کیا کروں، آپ کیا چاہتے ہو کیا میں بھارت کے ساتھ جنگ چھیڑ دوں؟ لیکن اب میں فخر کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اس بار جب کشمیر میں حملہ ہوا تو پاکستان ڈرا نہیں، جھکا نہیں، ہم نے جنگ کی اور وہ جنگ ہم جیت چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پچھلی حکومت کا ردِعمل کشمیر ہائی وے کو سری نگر ہائی وی کا نام دینے اور بعد از نماز جمعہ دعاؤں کا تھا، لیکن اس بار حکومت کا جواب اُن کے 6 جہاز گرانے اور انہیں مجبور کرنے کا تھا تاکہ وہ سیز فائر کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ خان صاحب کی حکومت کے بعد بھارت زور و شور سے کہتا تھا کہ کشمیر ہمارا اندورنی ایشو بن چکا ہے لیکن اب دنیا یہ بات مان رہی ہے کہ کشمیر بین الاقوامی مسئلہ بن چکا ہے، یہ کشمیریوں کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ حتیٰ کہ امریکی صدور بھی کشمیر کے ایشو کو بین الاقوامی مسئلہ مانتے ہیں، بھارت اپنے پرانے الفاظ ’کشمیر ہمارا اندرونی مسئلہ‘ سے پیچھے ہٹ چکا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ، امریکا اور یورپی یونین میں ہمدردی پائی جاتی ہے، جو بربریت اسرائیل نے غزہ میں دکھائی وہی مودی نے کشمیر کے رہائشیوں پر اپنانے کی کوشش کی ہے۔