بھارت نے مساجد، سول آبادی اور ہائیڈرو اسٹرکچر کو نشانہ بنایا، 26 شہری شہید ہوئے: ڈی جی آئی ایس پی آر

صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے جن مقامات کو نشانہ بنایا وہ سویلین آبادی والے علاقے تھے۔ احمد پور شرقیہ میں 13 افراد شہید ہوئے جبکہ مریدکے میں ایک مسجد کو نشانہ بنایا گیا جہاں 3 افراد شہید ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے خاص طور پر مساجد کو نشانہ بنایا، اور عبادت گاہوں پر حملہ کرنا اس تنگ نظری کی عکاسی کرتا ہے جو مودی حکومت میں ہندوتوا کے نظریے کے تحت بڑھتی جا رہی ہے، جہاں اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کی مذہبی آزادی کو دبایا جا رہا ہے۔ ترجمان پاک فوج نے بتایا کہ بھارتی حملے کے جواب میں 5 جنگی طیارے اور ایک کومبیٹ ڈرون مار گرائے گئے۔ بھارتی طیاروں کو جنرل ایریا بھٹنڈہ، کہنور، اونتی پور اور مقبوضہ سری نگر میں مار گرایا گیا۔ یہ طیارے اس وقت تباہ کیے گئے جب وہ پاکستان پر حملہ آور ہو رہے تھے۔ تباہ کیے گئے بھارتی طیاروں میں 3 رافیل، ایک مگ 29، ایک سکوی اور ایک کومبیٹ ڈرون شامل ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ پاک فضائیہ اور پاک فوج نے بھارت کی کئی چیک پوسٹس کو بھی تباہ کر دیا۔ سیز فائر کی خلاف ورزی کرنے والی بھارتی فوج کے بریگیڈ ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا گیا۔ چھتری پوسٹ، جورا پوسٹ، شاہپور تھری پوسٹ اور دیگر کئی مقامات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت نے ایک اور انتہائی افسوسناک اور ناقابلِ برداشت قدم اٹھاتے ہوئے نيلم جہلم ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کے اسٹرکچر کو بھی نشانہ بنایا، جس سے ڈیم کو نقصان پہنچا۔ ہائیڈرو اسٹرکچر کو نشانہ بنانا ناقابلِ برداشت اور خطرناک اشتعال انگیزی ہے۔ کیا بھارت پاکستانی عوام کے پانی کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے؟ کیا بھارت کو اندازہ ہے کہ اس کے نتائج کیا ہوں گے؟ کیا بین الاقوامی قوانین اور جنگی روایات کسی ملک کے پانی کے ذخائر اور ڈیمز کو نشانہ بنانے کی اجازت دیتی ہیں؟ انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ بھارت نے حملہ اس وقت کیا جب کئی قومی اور بین الاقوامی پروازیں پاکستانی فضائی حدود میں موجود تھیں، اور ہزاروں سویلین مسافروں کی جانیں خطرے میں ڈال دی گئیں۔ حملے کے وقت 57 بین الاقوامی پروازیں پاکستان کی فضائی حدود میں موجود تھیں