اعجاز چوہدری کی ضمانت منظور

سپریم کورٹ کے جج جسٹس نعیم اختر افغان کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سماعت کی۔ اسپیشل پراسیکیوٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ اعجاز چوہدری نے لوگوں کو اکسایا اور سازش کا بھی حصہ رہے۔ جسٹس نعیم اختر افغان نے کاہ کہ اعجاز چوہدری کے خلاف کیس اتنا ہی مضبوط تھا تو فوجی عدالت میں لے جاتے، ویسے بھی تو 600 لوگ فوجی عدالتوں میں لے کر گئے ہی ہیں، ضمانت کو بطور سزا استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ اس موقع پر وکیل پی ٹی آئی سینیٹر نے کہا کہ میرے مؤکل 11 مئی 2023 سے گرفتار ہیں۔ فروری 2024 میں لاہور کی انسداد دہشتگردی عدالت نے 9 مئی کو گاڑیاں اور تھانہ شادمان جلانے کے مقدمات میں یاسمین راشد، محمود الرشید اور اعجاز چوہدری پر فرد جرم عائد کی تھی۔ انسداد دہشتگردی عدالت میں 9 مئی کو پولیس گاڑیاں اور تھانہ شادمان جلانے کے کیس کی سماعت ہوئی تھی۔ جب یاسمین راشد، محمود الرشید، اعجاز چوہدری و دیگر پر فرد جرم عائد کی گئی تھی تو ملزمان نے صحت جرم سے انکار کیا تھا۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر استغاثہ کے گواہ شہادت کیلیے طلب کرتے ہوئے مقدمے کا ٹرائل جیل میں کرنے کا حکم دیا تھا۔ تھانہ سرور روڈ میں پی ٹی آئی رہنماؤں و و دیگر کے خلاف مقدمہ درج ہے۔