تفصیلات کے مطابق عید سیل کے حوالے سے سال 2025 کے مقابلے میں 2024 بدترین سال رہا اور مارکیٹوں میں گہما گہمی کے باوجود اچھی خریداری کی صورتحال پیدا نہ ہوسکی۔ صدر آل کراچی تاجر اتحاد عتیق میر نے کہا کہ رواں سال خریداری گذشتہ سال کے مقابلے میں 25 تا 30 فیصد کم رہی، ایک سال میں عید پر فروخت ہونے والے سامان میں 40 سے 50 فیصد اضافہ ہونے کی وجہ سے تقریبا 15ارب روپے کا مال فروخت ہوسکا۔ عتیق میر کا کہنا تھا کہ عید سیزن کا 60 تا 70فیصد سامان گوداموں میں پڑا رہ گیا، کراچی میں عید سیزن کے لحاظ سے 2015 سب سے بہترین سال تھا، سال 2015 میں 70 ارب روپے کی قریب کا مال تاجروں نے فروخت کیا تھا ۔ صدر آل کراچی تاجر اتحاد نے کہا کہ کراچی میں عید سیزن پر 100 ارب روپے کے خریداری ہو سکتی ہے تاہم دس سالوں میں فروخت 70 ارب سے کم ہوکر 15 ارب تک گر گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قوتِ خرید نہ ہونے کے سبب عید کی ذیادہ تر خریداری خواتین اور بچوں کے ریڈی میڈ گارمنٹس، جوتے ،مصنوعی زیورات اور زیبائش کے سستے سامان تک محدود رہی۔ عید الفطر پر تجارتی علاقوں اور شہر کی 200سے زائد مارکیٹیں عید کی روایتی خریداری کی منتظر رہیں۔
