وزیراعظم کی قومی اسمبلی آمد کے موقع پر پاکستان تحریک انصاف کے ارکان نے احتجاج کیا، جس سے ایوان مچھلی بازار بن گیا۔ قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت ہوا، جس میں وزیراعظم شہباز شریف کے پہنچتے ہی پی ٹی آئی کے ارکاراکین نے احتجاج شروع کردیا۔ اس موقع پر انہوں نے اوووو اوووو کی آوازیں لگانی شروع کردیں۔ پی ٹی آئی ارکان قومی اسمبلی کے احتجاج پر مسلم لیگ ن کے اراکین نے بھی جوابی نعرے بازی کی۔ اس موقع پر ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کرنے لگا جب کہ مسلم لیگ ن کے ارکان نے وزیراعظم کے گرد حفاظتی دیوار بھی بنائی۔ اجلاس میں آسیہ ناز نے اپوزیشن کے شور شرابے کے دوران مرد اور خواتین ووٹروں کے درمیان مسلسل پائے جانے والےصنفی فرق پرتوجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس پر وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ الیکشن کمیشن اس فرق کو دور کرنے کی کوشش کر رہا ہے، حکومت اس سے متعلق مکمل معاونت فراہم کر رہی ہے، ووٹرز کے صنفی فرق سے متعلق الیکشن کمیشن اپنی ذمہ داریاں پوری کررہا ہے۔ وزیر قانون نے کہا کہ نادرا اور دیگر ادارے بھی کام کررہے ہیں، یہ صنفی فرق کم ہوتے ہوتے اب 7 فیصد رہ گیا ہے۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں پی ٹی آئی اراکین نے بانی ٹی آئی کے حق میں پلے کارڈ اٹھا کر احتجاج کیا۔ اس دوران ارکان مسلسل نعرے بازی کرتے رہے۔ بعد ازاں قومی اسمبلی کا اجلاس کل دوپہر 2 بجے تک ملتوی کردیا گیا