سندھ ترقی پسند پارٹی کی جانب سے 9 نومبر کو حيدرآباد ھٹڑی بائی پاس پر دھرنے کی تیاریوں کو آخری شکل دی گئی

حيدرآباد : سندھ ترقی پسند پارٹی کی جانب سے 9 نومبر کو حيدرآباد ھٹڑی بائی پاس پر سندھ دریا پر کئنال بنانے کے منصوبے کے خلاف ہونے والے دھرنے کی تیاریوں کو آخری شکل دی گئی۔ دھرنے کی تیاریوں کے حوالے سے بلائی جانے والی اجلاس سے سندھ ترقی پسند پارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر قادر مگسی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ دریا کا پانی سندھ کے عوام کا قانونی، دائمی اور عالمی حق ہے۔ سندھ کے لوگ کسی بھی صورت میں اپنی زندگی کا سہارا سندھ دریا کو خشک ہونے نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ دریا کے کوٹری ڈاؤن اسٹریم میں مطلوبہ پانی نہ چھوڑنے کی وجہ سے سندھ کے لاڑ کے علاقے میں سمندر آگے بڑھ رہا ہے۔ موجودہ وفاقی حکومت کو ہوش سے کام لینا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سندھ دشمن منصوبے میں پیپلز پارٹی بھی برابر کی شریک ہے، جس کے اثرات وفاقی حکومت پر ہیں اور صدارتی محل میں بھی پیپلز پارٹی کی موجودگی ہے۔ اجلاس میں ہٹڑی بائی پاس پر صبح 10 بجے سے شام 5 بجے تک احتجاجی دھرنا دینے اور روڈ بند کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی۔ دھرنے کی کامیابی کے لیے مختلف گاؤں، شہروں اور علاقوں میں جاری مہم پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ دھرنے میں ہزاروں خواتین، بچے اور مرد شریک ہوں گے، جن کے لیے دھرنے کے مقام پر پینے کے پانی کی کیمپیں، استقبالیہ کیمپ اور ایک بڑی اسٹیج بنائی جائے گی، جس پر پارٹی کے رہنما خطاب کریں گے۔ دھرنے کے دوران مختلف قومی فنکار قومی گانے، اسٹیج ڈرامے اور ملی نغمے پیش کریں گے۔ اس موقع پر ایس ٹی پی کے چیئرمین نے سندھ کے عوام سے اپیل کی کہ وہ 9 نومبر کو ہونے والے دھرنے میں بھرپور شرکت کریں تاکہ وفاقی حکومت کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ سندھ کا عوام کسی بھی سندھ دشمن فیصلے کو قبول نہیں کرے گا۔ اجلاس میں ایس ٹی پی کے جنرل سیکریٹری ہوت خان گاڈھی، ڈاکٹر عبدالحمید میمن، قادر چنا، ڈاکٹر احمد نوناری، امتیاز سموں، ڈاکٹر سومار مڱریو اور دیگر بھی شریک تھے۔