وفاقی کابینہ نے “آپریشن عزم استحکام” کی منظوری دے دی۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں 11 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے مالی سال 23-2022 کی قومی اقتصادی کونسل کی سالانہ رپورٹ پر غور کیا، وفاقی کابینہ نے ای سی سی، سی سی ایل ایل سی اور کابینہ کمیٹی برائے حکومتی ملکیتی اداروں کے فیصلوں کی توثیق کردی۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ وفاقی کابینہ نے نیشنل ایکشن پلان کے ایپکس کمیٹی کے فیصلوں کی بھی توثیق کر دی، وفاقی کابینہ نے “آپریشن عزم استحکام” کی باضابطہ منظوری دے دی، وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کو “عزم استحکام آپریشن” سے متعلق قیاس آرائیوں سے متعلق آگاہ کیا ۔ وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آپریشن عزم استحکام ماضی کے آپریشنز کی طرح نہیں ہے، عزم استحکام آپریشن میں عوام کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ شہباز شریف نے مزید کہا کہ صرف انٹیلی جنس بنیادوں پر شرپسند عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے گی، عام لوگوں کے گھروں میں کوئی اس طرح کی کارروائی نہیں کی جائے گی وزیراعظم نے کہا کہ عزم استحکام ایک کثیر جہتی، مختلف سیکیورٹی اداروں کے تعاون اور پورے ریاستی نظام کا مجموعی قومی وژن ہے، اس مقصد کے لیے کسی نئے و منظم مسلح آپریشن کے بجائے پہلے سے جاری انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کو مزید تیز کیا جائے گا، بڑے پیمانے پر مسلح آپریشن جس کے نتیجے میں نقل مکانی کی ضرورت ہو، وژن عزم استحکام کے تحت ایسے کسی آپریشن کی شروعات محض غلط فہمی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عزم استحکام کا مقصد دہشت گردوں کی باقیات، جرائم و دہشت گرد گٹھ جوڑ اور ملک میں پر تشدد انتہاپسندی کو فیصلہ کن طور پر جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے جلاس کو ریاستی اداروں کی نجکاری بالخصوص پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی نجکاری پر پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ پی آئی اے کی نجکاری کا عمل تیزی سے جاری ہے، پری بڈنگ کے عمل میں دلچسپی کا اظہار کرنے والی کمپنیاں پی آئی اے کی مختلف سائٹس کا دورہ کر رہی ہیں، پی آئی اے کی بڈنگ اگست کے پہلے ہفتے میں ہوگی، وزیرِ اعظم نے پی آئی اے کی نجکاری کے عمل کو تیز کرنے اور اس میں شفافیت کے عنصر کو کلیدی اہمیت دینے کی ہدایت کی۔