قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن رہنماؤں نے وزیر دفاع خواجہ آصف کی تقریر کے دوران شور شرابہ کرتے ہوئے ’فاٹا آپریشن بند کرو‘ کے نعرے لگا دیے، اس کے علاوہ اپوزیشن رہنماؤں نے اسپیکر ڈائس کا گھیراؤ بھی کرلیا۔ ڈپٹی اسپیکر غلام مصطفی کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس منعقد ہوا، اجلاس کے آغاز پر وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایوان میں اقلیتوں کے تحفظ کے لیے قرارداد ایوان میں پیش کی، اس میں مطالبہ کیا گیا کہ اقلیتوں کے خلاف کارروائی کرنے والوں کو سزا دی جائے، اقلیتوں کو تحفظ دیا جائے، اقلیتوں کی حفاظت کو وفاقی اور صوبائی حکومتیں یقینی بنائیں بعد ازاں وزیر دفاع خواجہ آصف نے اس حوالے سے تقریر شروع کی تو اپوزیشن رہنماؤں نے احتجاج شروع کردیا، شور شرابے کے درمیان اپنی بات جاری رکھتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں اقلیتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے حملے ہمارے لیے باعث شرمندگی ہیں، اس پر سب کا اتفاق رائے ہونا چاہیے۔ اپوزیشن کے شور شرابے کے باعث خواجہ آصف نے اپنی تقریر روک دی، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی سید غلام مصطفی شاہ نے کہا خواجہ صاحب آپ اپنی تقریر جاری رکھیں، خواجہ صاحب! آپ بات کریں آپ کا مائیک کھلا ہے اس موقع پر سرکاری ٹی وی کی جانب سے نشریات کی آواز کو بند کردیا گیا۔ بعد ازاں خواجہ آصف نے کہا کہ یہ تو بلیک میلنگ ہورہی ہے، یہ ہمیں گالیاں نکال رہے ہیں، ابھی کل والی گالی کا مسئلہ حل نہیں ہوا یہ مزید گالیاں دے رہے ہیں۔ اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ جمعیت علمائے اسلام(ف) کے اراکین نے بھی احتجاج میں حصہ لیا، رہنماؤں نے ہمیں امن چاہیے کہ نعرے بھی لگائے۔ اس دوران وزیر دفاع نے مزید بتایا کہ میں نے آپ سے اجازت مانگی جب یہ ایوان سے باہر چلے گئے تھے، میں ایک ایسے مسئلے پر بولنا چاہتا ہوں جو سیاسی مسئلہ نہیں، وہ تنازع نہیں بلکہ ایسا مسئلہ ہے جس پر کسی کا بھی اختلاف نہیں ہوگا، یہاں اقلیتوں کو قتل کیا جارہا ہے، یہ ایک انتہائی حساس معاملہ ہے، ہم اس کی وجہ سے شرمندہ ہورہے ہیں مگر یہ ہمیں بولنے نہیں دے دہے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ یہاں گالیاں دی جارہی ہیں، یہ سیاست کر رہے ہیں، پاکستان میں کوئی مذہبی اقلیت محفوظ نہیں، ہم مسلمانوں کے اندر جو چھوٹے فرقے ہیں وہ تک محفوظ نہیں، یہ ایسی بات ہے کہ سب کو شرمسار ہونا چاہیے مگر ان کو شرم و حیا نہیں آرہی ہے۔ خواجہ آصف کی تقریر کے دوران اپوزیشن نے چور چور اور فارم 47 کی نعرے بازی کی بعد ازاں وزیر نے بتایا کہ ہم ایک قرارداد لانا چاہتے ہیں تاکہ اقلیتیں محفوظ رہ سکیں ، یہ ملک سب کا ہے، جب اس موضوع پر ایوان میں بات کی جاتی ہے تو اپوزیشن والے اس موضوع کا گلہ گھونٹ رہے ہیں، یہ اپنے ذاتی مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں، میں اس ایوان میں ان کے مسائل کا بھی جواب دوں گا مگر یہ مجھے بولنے نہیں دے رہے، اقلیتوں کئ قتل کا سلسلہ بند ہونا چاہیے، ہمارا مذہب بھی اس کی اجازت نہیں دیتا، لوگ ذاتی جھگڑوں پو توہین کا الزام لگا کر لوگوں کو قتل کر رہے ہیں۔