22

اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کے نئے ٹریبونل کو کام سے روک دیا

اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے نئے ٹریبونل کو کام سے روک دیا۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے امیدوار شعیب شاہین، عامر مغل اور علی بخاری کی ٹریبونل کی تبدیلی کے سیکشن کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے امیدوار شعیب شاہین، عامر مغل اور علی بخاری کی ٹریبونل کی تبدیلی کے سیکشن کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق نے درخواست پر سماعت کے دوران استفسار کیا کہ ٹریبونل سے متعلق نوٹیفکیشن کسی کے پاس نہیں تو میڈیا کے پاس کہاں سے آیا؟ میڈیا رپورٹس کے مطابق دو ٹریبونلز آپ نے بنائے ہیں ایک بہاولپور اور ایک راولپنڈی کے لیے، جن گراؤنڈز کے اوپر اپ نے تبدیلی کی ہے اس پر عدالت کو مطمئن کرنا ہوگا۔ چیف جسٹس نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے وکیل سے مکالمہ کیا کہ اس طرح کی چیزوں سے آپ نیا پریسیڈنٹ بنانے جارہے ہیں چیف جسٹس نے ڈی جی لا الیکشن کمیشن سے استفسار کیا کہ آپ تو اتنے سینئیر وکیل ہیں آپ کے ہوتے ہوئے ایسے فیصلے کیسے آ گئے، آپ نے جو ٹریبونل تبدیل کیا ہے وہ کس بنیاد پر کیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بات یہ ہے کہ آپ ایک نئی جیوریکڈیکشن بنانے جا رہے ہیں، آپ کو اگر پروسیجر سے مسئلہ تھا اس کو عدالت میں چیلنج کرتے، ڈی جی لا الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہم عدالت کی معاونت کریں گے عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل پر اظہارِ برہمی کرتے ہوئے کہا کہ جو درخواست گزار گئے، یہ ان کا کام ہے، آپ کا کام نہیں ہے یہ، سوچ سمجھ کر بحث کیجیئے گا، جو ڈیفڈ کرسکتے ہیں، وہی ڈیفنڈ کریں، مجھے ان کے اختیارات کا بھی پتہ ہے اور اپنے اختیارات کا بھی پتہ ہے۔ عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ پاؤں پر کلہاڑی مارنی ہے تو بتائیں؟ میں ابھی فیصلہ معطل کر کے ریکارڈ واپس منگوا کر ٹریبونل بحال کر دیتا ہوں عدالت نے کہا کہ ٹرانسفر اتھارٹی آپکے پاس ہے مگر آپ ریکارڈ کیسے منگوا رہے ہیں، آپ نے تینوں کیسز کا ریکارڈ منگوا لیا ہے، عدالت نے استفسار کیا کہ کس بنیاد پر آپ نے ٹربیونل کا ٹرانسفر کیا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ الیکشن کمیشن سومو ٹو پاور کے تحت یہ اختیار استعمال نہیں کر سکتا۔ عدالت نے کہا کہ یہ اختیار استعمال کرنے کے لیے آپ کے پاس کوئی درخواست آنی چاہئے تھی، چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے آرڈر کرنے سے پہلے الیکشن ٹریبیونل سے ریکارڈ کیسے منگوا لیا؟ ہمارے پاس روزانہ ٹرانسفر کی درخواستیں آتی ہیں ہم تو ریکارڈ نہیں منگواتے، آپ نے ریکارڈ واپس منگوا لیا تاکہ ٹریبیونل کارروائی آگے نہ بڑھا سکے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ یہ رویہ ناقابلِ برداشت ہے، جس نے درخواست دی اس کا کام تھا کہ ریکارڈ وہ ساتھ لگاتا، الیکشن کمیشن نے سارا کچھ کرنا ہے انہوں نے خود کچھ نہیں کرنا، الیکشن کمیشن کے پاس ٹریبیونل تبدیلی کا اختیار ہے لیکن گراؤنڈ کیا ہے، الیکشن کمیشن کے پاس سوموٹو کارروائی کا اختیار نہیں ہے۔ ایڈووکیٹ شعیب شاہین نے کہا کہ 7 دنوں میں جواب جمع کرانا ہوتا ہے انہوں نے تین سے زائد سماعتیں لی، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ فریقین کا کام تھا جواب جمع کرنا کیوں نہیں کرایا؟ شعیب شاہین نے کہا کہ اپلیٹ ٹریبونل جج نے تو ایسا کوئی آرڈر جاری ہی نہیں کیا تھا، اپلیٹ ٹریبونل نے انکو کئی مواقع دئیے ان سے جواب مانگا مگر انہوں نے جواب جمع نہیں کرایا شعیب شاہین نے استدلال کیا کہ اپلیٹ ٹریبونل نے تو ان سے فارم 45 اور بیان حلفی جمع کرنے کا کہا تھا، الیکشن ٹریبونل کے نوٹسسز پر انہوں نے جواب ہی جمع نہیں کرایا، وکیل راجہ خرم نواز نے کہا کہ ہم نے جواب جمع کرایا ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ آپ نے تو کہا ہےکہ آپ کو سننے کا موقع نہیں دیا گیا تو پھر جواب کیسے جمع کرایا گیا؟ شعیب شاہین نے کہا کہ پہلا اعتراض یہ کیا گیا کہ ٹریبونل کے جج معتصب ہیں ، ہم ہر اعتراض تھا کہ یہ وکیل ہیں انکو فیور ملے گی۔ فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت عالیہ نے الیکشن کمیشن کے نئے ٹریبونل کو کام سے روکتے ہوئے سماعت 24 جون تک ملتوی کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں