16

سینیٹ اجلاس میں ججز پر کڑی تنقید: فیصل واوڈا توہینِ عدالت نوٹس کا معاملہ سیکرٹریٹ کو ارسال

سینیٹ اجلاس میں ارکان نے عدلیہ و ججز پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے سلیکٹو جسٹس اور توہین عدالت میں تفریق کے الزامات عائد کردیے۔ قائم مقام چیئرمین سیدال خان کی زیر صدارت سینیٹ اجلاس ہوا تاہم بعدازاں سینیٹر شیری رحمان نے ایوان کی کارروائی کو چلایا۔ ایم کیو ایم کے سینیٹر فیصل سبزواری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ فیصل واوڈا نے کل ایک اہم نکتہ اٹھایا، ایسا لگتا ہے لاکھوں ووٹ لینے والے اراکین پارلیمنٹ کے علاوہ سب کی عزت ہے ، آئین صرف ججوں کی عزت کی بات نہیں کرتا بلکہ اراکین پارلیمنٹ کی عزتوں کی بات بھی کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اداروں میں بیٹھے لوگوں کو بھی حق نہیں کہ وہ ہماری عزتیں اچھالیں، پارلیمان سے سپریم کوئی ادارہ نہیں ہے، آپ کی عزتیں ہماری عزتیں ہیں، اگر آپ کی جانب سے سلیکٹو جسٹس ہوگی تو لوگ آواز اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ توہین ہے کیا ؟ کس کی ہوسکتی ہے اس پر بھی وضاحت ہونی چاہیے، یہاں توہین عدالت میں بھی تفریق کی جاتی ہے ، سلیم کوثر نے کئی دہائیوں پہلے کہا تھا، تم نے سچ بولنے کی جرات کی یہ بھی توہین ہے عدالت کی، واضح کرنا چاہتا ہوں اس ایوان کا نمائندہ اپنے لوگوں کی پراکسی ہے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر محسن عزیز نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جب ہماری پارٹی کو جھنڈا لگانے کی اجازت نہیں تھی کسی نے آواز نہیں اٹھائی، سینیٹر چوہدری اعجاز کے کئی مرتبہ پروڈکشن آرڈر جاری کئے، اس ایوان میں بارہ لوگوں کی موجودگی میں الیکشن میں تاخیر کا بل پاس کیا گیا تو کیا یہ پارلیمنٹ کی عزت تھی؟ ایک چیف جسٹس نے کہا الیکشن کروائے جائیں تو اس پر عمل نہیں کیا گیا، ایک جج کے پاس کون سی فورس ہوتی جو وہ اپنے فیصلے پر عمل کرائے، پارلیمنٹ کی توقیر کا آئین کے حوالے سے تحفظ کرنا بہت ضروری ہے، اس کو ذاتی ایجنڈا نا بنایا جائے، جب ذاتی ایجنڈوں پر بات ہوتی ہے تو ہمیں طیش آتا ہے ن لیگ کے سینیٹر طلال چوہدری نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پوری مہذب دنیا میں توہین عدالت کا قانون ختم ہوچکا ہے، کسی مہذب دنیا میں عدالتیں کسی عام شہری کو بھی نوٹس نہیں کرتیں، آئین بنانے والوں کو سزا دینے سے نہیں آئین توڑنے والوں کو سزا دینے سے عدلیہ کا وقار بڑھے گا، پارلیمنٹ کی توہین کب نہیں ہوئی، وزیراعظم کو پھانسی کو لٹکایا گیا، کسی شہزادی کو اتنی جلدی نکالا نہیں جاسکتا جتنی جلدی وزیراعظم کو تاحیات نکال دیا جاتا ہے جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضی نے کہا کہ تاثر مل رہا ہے یہ اجلاس بلانے کا مقصد ایک ہی ہے، ایک سپریم کورٹ اور کچھ ہائی کورٹس کے ججز آج بھی نشانے پر ہیں، شاید وجہ یہ ہے کہ کوئی فیصلہ یا ریمارکس نہ آئے، لگتا ہے کچھ ججز کیخلاف ایک پراکسی شروع ہوئی ہے اور ہم بھی اسی کیساتھ چل رہے ہیں، ایسے محسوس کروانا کہ یہ ادارہ کسی اور ادارے سے برتر ہے، محسن اختر کیانی، بابر ستار اور اطہر امن للہ کو نشانہ بنایا گیا، محسن اختر کیانی لاپتہ افراد کا معاملہ اٹھا رہے، ہم میں سے کسی کو جرات نہیں ہوئی کہ وہ لاپتہ افراد کا مسئلہ اٹھائے، بابر ستار کا مسئلہ بھی آپ کو پتہ ہے کیا چیز چل رہی ہے، اس طرح سے ججز کے ساتھ نا کریں، اطہر من اللہ صاحب کا گناہ کیا ہے وہ بھی ہم جانتے ہیں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے وضاحت کی کہ حکومتی نمائندے کے حوالے سے کہنا چاہتا ہوں اداروں میں ٹکراؤ کی صورتحال نہیں، چیف جسٹس آف پاکستان ایک متحمل اور بیلنسڈ جج ہیں، آئین پاکستان کسی عدالت کو یہ اختیار نہیں دیتا کہ وہ غصے میں آکر جو مرضی کہہ دے، پارلیمان ایک سپریم ادارہ ہے، میں امید رکھتا ہوں چیف جسٹس شفافیت کو سامنے رکھ کر کیس پر فیصلہ کریں گے، اس معاملے کو سینیٹ سیکرٹریٹ کو بھیجا جائے تاکہ وہ اس کی رپورٹ تیار کرے اور چئیرمین سینیٹ کو وہ رپورٹ دیں، چئیرمین سینیٹ اس پر آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے۔ سینیٹر شیری رحمان نے سینیٹر فیصل واوڈا کا معاملہ سینیٹ سیکرٹریٹ کو بھجواتے ہوئے ہدایت کی کہ سینیٹ سیکرٹریٹ اس معاملے پر اپنی رپورٹ بناکر چئیرمین سینٹ کو ارسال کرے۔ بعدازاں اجلاس جمعے کی صبح ساڑھے دس بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں