20

دنیا بھر میں فضائی حادثات میں جاں بحق ہونے والے سربراہانِ مملکت

دنیا بھر میں فضائی حادثات میں جاں بحق ہونے والے حکومتی عہدیداروں میں کئی ممالک کے صدور بھی شامل ہیں، ان میں پاکستانی سابق صدر ضیاء الحق، عراق کے سابق صدر عبدالسلام عارف اور برازیل کے نیورو ریموس کا نام قابلِ ذکر ہے ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی ہیلی کاپٹر حادثے میں موت کے بعد 1940 کی دہائی سے اب تک مختلف ممالک کے تقریباً 14 صدور ناگہانی فضائی حادثات و واقعات میں ہلاک ہوچکے ہیں۔ یاد رہے کہ ابراہیم رئیسی کو لے جانے والا ہیلی کاپٹر 19 مئی کو آذربائیجان کی سرحد پر ڈیم کی افتتاحی تقریب سے واپس آتے ہوئے موسم کی خرابی کے باعث گر کر تباہ ہو گیا تھا جس کے نتیجے میں ایرانی صدر، وزیر خارجہ حسین امیر عبد اللہیان سمیت 9 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔ ایرانی حکام نے آج (20مئی) صبح ایرانی صدر اور وزیر خارجہ سمیت دیگر کی موت کی تصدیق کردی ہے۔ اسی طرح کے واقعات پر اگر ماضی میں دیکھیں تو سنہ 1940 سے اب تک پیش آنے والے ناگہانی فضائی حادثات و واقعات میں تقریباً 14 یا اس سے زائد صدور جان کی بازی ہار چکے ہیں پاکستان کے چھٹے صدر ضیاء الحق 17 اگست 1988 کو ہوائی جہاز کے حادثے کا اس وقت شکار ہوئے جب وہ بہاولپور میں امریکی ٹینک کے مظاہرے کا مشاہدہ کرنے کے بعد اسلام آباد کے لیے روانہ ہوئے۔ طیارہ بہاولپور ایئرپورٹ سے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی طرف روانہ ہوا لیکن ٹیک آف کے کچھ ہی دیر بعد کنٹرول ٹاور کا طیارے سے رابطہ منقطع ہوگیا۔ حادثے کے نتیجے میں ضیاء الحق سمیت طیارے میں سوار 29 افراد جاں بحق ہوگئے تھے رامون میگسیسے جو فلپائن کے ساتویں صدر کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آئے تاہم وہ اپنی مدت طیارہ حادثے کے باعث پوری نہ کرسکے۔ 17 مارچ 1957 کو میگسیسے سیبو سٹی سے منیلا کے لیے روانہ ہوئے لیکن اڑان بھرتے ہی طیارے کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ملی برازیل کے عبوری صدر نیریو راموس 16 جون 1958 کو کریٹیبا افونسو پینا کے ہوائی اڈے کے قریب کروزیرو ایئر لائن کے حادثے میں ہلاک ہوگئے تھے13 اپریل 1966 کو عراق کے دوسرے صدر عبدالسلام عارف بصرہ کے ہوائی اڈے سے تقریباً 10 کلومیٹر کے فاصلے پر عراقی فضائیہ کے قریب حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ اس وقت کی رپورٹس کے مطابق عبدالسلام عارف کی موت ہیلی کاپٹر حادثے میں ہوئی تھی 24 مئی 1981 کو اس وقت کے صدر جیمی رولڈوس کا طیارہ ایکواڈور کے شہر لوجا کے سیلیکا کینٹن میں گواچاناما کے قصبے کے قریب گر کر تباہ ہوا تھا۔ طیارے میں سوار افراد میں کوئی زندہ نہیں بچا تھا۔ صدر کے ساتھ ہلاک ہونے والوں میں خاتون اول مارتھا بوکرام، وزیر دفاع مارکو سبیا مارٹینز اور ان کی اہلیہ اور دونوں پائلٹ شامل تھے 27 اپریل 1969 کو بولیویا کے صدر رینے بیرنٹوس کا ہیلی کاپٹر حادثہ کا شکار ہوا، اس حادثے کے نتیجے میں وہ 49 برس کی عمر میں چل بسے 10 اپریل 2010 کوپولینڈ کے صدر لیخ کازنسکی سمیت دیگر 95 افراد اس وقت ہلاک ہو گئے جب ان کا طیارہ روسی قصبے سولنسک کے ایئرپورٹ کے قریب گر کر تباہ ہو گیا۔ مقامی میڈیا کے مطابق حادثے شدید دھند کے باعث پیش آیا تھا۔ طیارے میں صدر کی اہلیہ، پولش فوج کے سربراہ اور مرکزی بینک کے گورنر بھی طیارے میں سوار تھے فروری 2010 میں چلی کے سابق صدر سباسٹین پنیرا ایک جھیل میں ہیلی کاپٹر گرنے کے نتیجے میں ہلاک ہوگئے تھے۔ چلی کی وزارت داخلہ کے مطابق، جہاز میں 4 دیگر افراد سوار تھے، جن میں سے 3 حادثے میں بچ گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں