35

صحافیوں پر حملوں سے متعلق ایف آئی اے، پولیس رپورٹس غیرتسلی بخش قرار

تفصیلات کے مطابق چار صفحات پر مشتمل حکم نامہ چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے تحریر کیا، حکم میں کہا گیا کہ صحافیوں پر حملوں سے متعلق ایف آئی اے اور پولیس کی رپورٹس تسلی بخش نہیں ہیں تحریری حکم نامے میں کہا گیا کہ ایف آئی اے اور پولیس دوبارہ تفصیلی رپورٹس جمع کرائیں۔ سپریم کورٹ یا رجسٹرار نے کسی صحافی کیخلاف کارروائی کا نہیں کہا ایف آئی اے کے صحافیوں کو جاری نوٹسز میں عدلیہ کا نام غلط استعمال کیا گیا۔ ایف آئی اے کے نوٹسز سے غلط پیغام گیا کہ عدالت کارروائی کرارہی ہےپریس ایسوسی ایشن آف سپریم کورٹ کی درخواست پرفریقین کو نوٹس جاری کیے گئے۔ حکم میں کہا گیا کہ پریس ایسوسی ایشن آف سپریم کورٹ کے وکیل نے جے آئی ٹی پر اعتراض اٹھایا۔ وکیل کے مطابق جے آئی ٹی میں خفیہ ایجنسیوں کے اہلکارشامل نہیں ہوسکتے بیرسٹر صلاح الدین نے صحافی پر ایف آئی آر کا ذکر کیا جس میں غلط دفعات لگائی گئیں۔ اٹارنی جنرل نے ایف آئی آر میں غلط دفعات کا اعتراف کیاتحریری حکم نامہ میں کہا گیا کہ صحافیوں کے مقدمات سے متعلق جواب آئندہ سماعت سے قبل جمع کرایا جائے۔ کیس کی مزید سماعت 25 مارچ کو ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں