54

پاکستان کا اگلا صدر کون؟ آصف زرداری یا محمود خان اچکزئی

تفصیلات کے مطابق ملک کے چودھویں صدر مملکت کے انتخاب کے لیے پولنگ کا وقت شروع ہوگیا ، پولنگ کاعمل شام4 بجے تک جاری رہے گا پولنگ پارلیمنٹ ہاؤس اورچاروں صوبائی اسمبلیوں میں ہورہی ہے، جہاں قومی اسمبلی،سینیٹ اور صوبائی اسمبلیوں کےارکان حق رائے دہی استعمال کررہے ہیں صدارتی انتخاب میں پیپلزپارٹی، ن لیگ اوراتحادی جماعتوں کے امیدوار آصف زرداری اور سنی اتحاد کونسل کے محمود خان اچکزئی مدمقابل ہیں صدارتی الیکشن کے موقع پر ریڈ زون میں سیکیورٹی ہائی الرٹ ہیں اور 600 پولیس اہلکار ریڈ زون میں تعینات کئے گئے ہیں، پولیس کا کہنا ہے کہغیرمتعلقہ افرادکوریڈ زون میں جانے کی اجازت نہیں جبکہ پارلیمنٹ میں جانےکی اجازت صرف پاسزکےساتھ ہو گی، صرف وی وی آئی پی اسکواڈ کوریڈ زون میں جانےکی اجازت ہوگی ارکان بیلٹ پیپر پر ووٹر پسند کے امیدوار کے نام کے سامنے خصوصی پینسل سے کراس لگائے گا، ملک کےصدر کا انتخاب الیکٹورل کالج کے ذریعے عمل میں لایا جائے گا، جس کے تحت ارکان قومی اسمبلی ، سینیٹ اور بلوچستان اسمبلی کے ہر ووٹرز کا ووٹ ایک ہی شمار ہوگا ووٹرز اور ارکان پارلیمنٹ کیلئے قومی ،صوبائی اسمبلی اور سینیٹ سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری کیلئے شناختی کارڈ ساتھ لانا لازمی قرار دیا گیا ہے صدارتی الیکشن کے لئے قومی اسمبلی ارکان کی پارلیمنٹ ہاؤس آمد جاری ہے، ایم کیو ایم کی خواتین ارکان اسمبلی پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئیں ، سینیٹردنیش کمار ، سنی اتحادکونسل کےعامرڈوگر ، آصف زرداری ، بلاول بھٹو سمیت دیگر ارکان بھی پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئےپولنگ کیلئے قومی اسمبلی ہال میں 2پولنگ بوتھ قائم کئے گئے ہیں، صدرکےانتخاب کیلئے خفیہ ووٹنگ ہوگی ، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ پریزائیڈنگ افسرہوں گے پولنگ کے دوران ممبرالیکشن کمیشن پارلیمنٹ ہاوس میں پریزائڈنگ افسر کی خدمات سرانجام دیں گے، چار بجے ووٹنگ کا وقت مکمل ہوگا ، جس کے بعد ووٹوں کی گنتی ہوگی، گنتی کا عمل مکمل ہوتے ہی جیتنے والے امیدوار کا اعلان کر دیا جائے گا نومنتخب صدر مملکت سے کل چیف جسٹس پاکستان عہدے کا حلف لیں گےپنجاب اسمبلی صدارتی الیکشن کے لیے پنجاب اسمبلی کے353ارکان ووٹ کاسٹ کریں گے ، پنجاب اسمبلی میں حکومتی اتحاد کے ووٹوں کی تعداد250 کے قریب ہے جبکہ پنجاب اسمبلی میں سنی اتحاد کونسل کے ارکان کی تعداد 103 ہے ، صدارتی الیکشن کیلئے پنجاب اسمبلی میں ووٹر کا تناسب5.7فیصد ہے سندھ اسمبلی سندھ اسمبلی کا ایوان مجموعی طور پر 168 ارکان پر مشتمل ہے اور سندھ اسمبلی میں صدارتی الیکٹورل ووٹوں کی تعداد 65 ہے ، جہاں پیپلزپارٹی کے116 ،ایم کیو ایم کے 36 ارکان ہیں، آصف زرداری کوسندھ اسمبلی سے صدارتی الیکٹورل61 ووٹ ملنے کا امکان ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں