تفصیلات کے مطابق 190 ملین پاؤنڈ کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری کے بعد احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے اڈیالہ جیل میں کیس کی سماعت کی نیب کے ڈپٹی پراسیکوٹر جنرل سردار مظفر عباسی کی جانب سے تفتیش کیلئے چیئرمین پی ٹی آئی کے دس روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی چیئرمین پی ٹی آئی کے وکلا نے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کی ، ڈپٹی پراسیکوٹر جنرل نیب نے بتایا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں القادر ٹرسٹ کیس کے حوالےسے فیصلہ محفوظ ہے اور وہ فیصلہ آنے کے بعد نیب کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر احتساب عدالت سترہ نومبر کو دوبارہ سماعت کرے گی احتساب عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کو التوا میں رکھتے ہوئے تین روز کیلئے نیب تفتیشی ٹیم کو جیل میں ہی چیرمین پی ٹی آئی سے تفتیش کرنے کی اجازت دے دی چئیرمین کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے سماعت کے بعد میڈیا کو بتایا کہ فاضل عدالت نے چئیرمین پی ٹی آئی کے جسمانی ریمانڈ کی نیب کی استدا مسترد کردی اور تین روز کیلئے جیل میں ہی چیئرمین پی ٹی آئی سے تفتیش کی اجازت نیب کو دے دی۔