تفصیلات کے مطابق نگراں وزیرخزانہ شمشاد اختر نے کہا کہ عوام پرمزیدبوجھ نہیں ڈالاجائےگا اور ٹیکس ہدف 9415 ارب روپے ہی رہےگا شمشاداختر کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت اخراجات میں کفایت شعاری کی پالیسی اپنائےگی، آئی ایم ایف کویقین دہانی کرائی ہے کہ اخراجات میں کمی سےبجٹ خسارہ قابومیں رکھیں گے وزیرخزانہ نے بتایا کہ آئی ایم ایف کےساتھ بات چیت مثبت اندازمیں آگےبڑھ رہی ہے، آئی ایم ایف کونگراں حکومت کےاقدامات پرمکمل بھروسہ ہے ان کا کہنا تھا کہ بےنظیرانکم سپورٹ پروگرام اورڈویلپمنٹ سپینڈنگ پرآئی ایم ایف نےاطمینان کااظہارکیا ، سیکرٹری فنانس آئی ایم ایف مشن کےساتھ پالیسی سطح کےمذاکرات کررہے ہیں گذشتہ روز پاکستان اورآئی ایم ایف کے درمیان پالیسی سطح کےمذاکرات میں آمدن بڑھانے، اخراجات گھٹانے،ڈالر ان فلوز پلان، ایکسچینج ریٹ، ادارہ جاتی اصلاحات پرتبادلہ خیال کیا گیاتھا آئی ایم ایف نے رضامندی ظاہر کی ہے کہ نگران حکومت کوئی نیا ٹیکس نہیں لگائے گی، ذرائع کے مطابق ٹیکس ہدف نو ہزار چار سو پندرہ ارب پرہی برقراررہے گا ذرائع کے مطابق پاکستان پہلے جائزے کیلئے آئی ایم ایف کی تمام اہم شرائط پوری کرچکا ہے، پالیسی سطح کے مذاکرات میں اسٹاف لیول ایگریمنٹ فائنل کیا جائے گا اور جائزہ مذاکرات کامیابی سے مکمل ہونے پرپاکستان کو اکہتر کروڑ ڈالرملیں گے۔