سب کو لیول پلیئنگ فیلڈ ملنی چاہیے، اسحاق ڈار

سابق وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ آج سب کو لیول پلیئنگ فیلڈ چاہیے اور ایسا ضرور ہونا چاہیے لیکن ہمیں تو 2018 میں نہیں ملی تھی میڈیاکے مطابق سابق وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے سینیٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج سب کو لیول پلیئنگ فیلڈ اور شفاف الیکشن چاہتے ہیں اور ہونا بھی چاہیے کہ اس کے بغیر گزارا نہیں لیکن ہمیں تو 2018 کے الیکشن میں لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں ملی تھی۔ ہم نے تو 35 پنکچر والے معاملے پر بنائے گئے جوڈیشل کمیشن میں بھی جواب دیا تھا اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ یہ درست ہے کہ آئین کے مطابق 90 دن میں انتخابات ہونے چاہئیں ہم بھی یہی چاہتے ہیں لیکن ہمیں آئین کی دیگر شقوں کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔ ایک بار مردم شماری منظور ہو جائے تو پھر نئی حلقہ بندیاں لازمی ہوتی ہیں ان کا کہنا تھا کہ دشمن پاکستان کو ایٹمی قوت اور میزائل پاور کے طور پر کسی صورت برداشت نہیں کرتا۔ اندرون و بیرون ملک دشمن پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے ڈیفالٹ کرانا چاہتے تھے۔ ہمیں حقائق ریکارڈ پر رکھنے چاہئیں۔ پی ٹی آئی حکومت نے کچھ چیزیں ریورس کیں جس سے مشکلات پیش آئیں، آئی ایم ایف کا معاہدہ توڑا گیا تو اس کا پی ڈی ایم کو ذمے دار نہیں ٹھہرا سکتے۔ پاکستان کی 24 ویں نمبر کی معیشت آج 47 ویں نمبر پر چلی گئی ہے ن لیگی رہنما نے کہا کہ پی ڈی ایم دور حکومت میں شہباز شریف نے بانڈز کی بات کی وہ پیرس کلب جانا چاہتے تھے میں نے ان سے کہا کہ یہ دونوں چیزیں پاکستان کے مفاد میں نہیں اس لیے نہ کریں۔ میں نے 72 گھنٹوں کے اندر بیان جاری کیا پھر میں آئی ایم ایف سے ڈیل کرنے گیا۔