15

اصلاحاتی اقدامات کے نتائج سامنے آنا شروع ہو چکے ہیں ،پاکستان چین کی ترقی کے ماڈل سے استفادہ کرنا چاہتا ہے:وزیراعظم

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان چین کی ترقی کے ماڈل سے استفادہ کرنا چاہتا ہے۔ وزیراعظم محمد شہبازشریف سے چائنا انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (سی آئی ڈی سی اے) کے چیئرمین لو ژاؤہوئی نے بیجنگ میں ملاقات کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان چین کی ترقی کے ماڈل سے استفادہ کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان ریلوے مین لائن 1 ( ایم ایل 1) کی اپ گریڈیشن منصوبے میں چین کی سرمایہ کاری کے خواہاں ہیں وزیراعظم نے سی پیک کو پاکستان اور چین کے درمیان دوستی کی آہنی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ سی پیک کے تحت سماجی اقتصادی ترقی پر مشترکہ ورکنگ گروپ کے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ چیئرمین سی آئی ڈی سی اے نے مختلف شعبوں میں چین پاکستان تعاون کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے بنیادی ڈھانچے کی ترقی، موسمیاتی تبدیلی کے ردعمل اور انسانی وسائل کی ترقی بشمول بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (بی آر آئی) اور گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (جی ڈی آئی) کے تحت جاری منصوبوں میں دو طرفہ شراکت داری کو بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا علاوہ ازیں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہاہے کہ بیرونی سرمایہ کاری کے لیے آسانیاں پیدا کی جا رہی ہیں ۔ اس حوالے سے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل حکومت کا ایک اہم اقدام ہے۔ چائنا ناردرن انڈسٹری کارپوریشن (نورینکو) کے چیئرمین سے ملاقات میں وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات ہیں جو وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔ اس موقع پر چیئرمین نورینکو نے وزیراعظم کی زیر نگرانی منصوبوں کی رفتار اور معیار کی تعریف کی ۔انہوں نے کہا کہ آپ کے زیر سایہ لاہور اورنج ٹرین میٹرو کامنصوبہ بر وقت تیار ہوا وزیراعظم نے چیئر مین نورینکو کو پاکستان میں مواصلات کے منصوبوں خصوصاً کراچی سرکلر ریلوے میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ وزیراعظم نے کہا کہ بیرونی سرمایہ کاری کے لیے آسانیاں پیدا کی جا رہی ہیں ، اس حوالے سے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل حکومت کا ایک اہم اقدام ہے ۔ دریں اثنا وزیراعظم محمد شہبازشریف سے چائنا ایکسپورٹ امپورٹ بینک (سی ای ایکس آئی ایم) کے چیئرمین ڈاکٹر وو فلن نے ملاقات کی، جس میں وزیراعظم نے پاکستان کی صنعتوں، زراعت اور آئی ٹی کے شعبوں کی جدید کاری کے لیے ایگزم بینک کی مسلسل حمایت کو سراہا۔انہوں نے حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے پر روشنی ڈالتے ہوئے گورننس کی بہتری ٹیکس نیٹ بڑھانے اور کاروبار کرنے میں آسانی کے حوالے سے کوششوں کا ذکر کیا تاکہ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) کو راغب کیا جا سکے وزیراعظم نے کہا کہ اصلاحاتی اقدامات کے نتائج سامنے آنا شروع ہو چکے ہیں کیونکہ غذائی شعبے میں مہنگائی پر کافی حد تک قابو پایا جا چکا ہے۔ کرنٹ اکاوٴنٹ خسارہ کم ہوا ہے اور پبلک ڈیبٹ کو مزید پائیدار سطح پر لایا گیا ہے۔ وزیراعظم نے پاکستان کی صنعتوں، زراعت اور آئی ٹی کے شعبوں کی جدید کاری کے لیے ایگزم بینک کی مسلسل حمایت کو سراہا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں