49

ججز کو دھمکی آمیز خطوط کیس کی تحقیقات میں بڑی پیش رفت

سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو مشکوک دھمکی آمیز خطوط کی ابتدائی تحقیق کے مطابق تمام خطوط ایک ہی جگہ سے بھیجے گئے ہیں میڈیا کے مطابق سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو بھیجے جانے والے مشکوک دھمکی آمیز خطوط کے معاملے پر اسلام آباد پولیس، سی ٹی ڈی سمیت تمام اداروں کی تفتیش مختلف پہلوؤں سے جاری ہےاس حوالے سے ذرائع نے میڈیا کو بتایا ہے کہ سی ٹی ڈی سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ ججز کو بھجوائے گئے خطوط کی تفتیش کر رہی ہے اور اب تک کی تحقیقات میں یہ پتہ چلا ہے کہ سپریم اور ہائیکورٹ کے ججز کو خطوط ایک ہی جگہ سے بھیجے گئے سی ٹی ڈی کی ابتدائی تفتیش کے مطابق یہ تمام خطوط سب ڈویژنل پوسٹ آفس سیٹلائیٹ راولپنڈی سے ارسال کیے گئے اور خطوط پر مہر بھی سب ڈویژنل پوسٹ آفس سیٹلائیٹ ٹاؤن کی ہے ذرائع نے بتایا کہ ان خطوط کے پوسٹ باکس کا تعین کرنے کے لیے مزید تحقیقات جاری ہے اور سب ڈویژنل پوسٹ آفس سیٹلائٹ ٹاؤن کے عملے سے بھی تفتیش کی جا رہی ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد پولیس متعلقہ پوسٹ آفس کے تمام پوسٹ باکسز کے قریب فوٹیجزاکھٹی کر رہی ہے جب کہ سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کی عمارتوں سمیت اردگرد لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیجز بھی لے لی گئی ہیں ذرائع کے مطابق اب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کی مدد سے تفتیش کو آگے بڑھایا جائے گا چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو بھی دھمکی آمیز خط موصول واضح رہے کہ دو روز قبل اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز جب کہ گزشتہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سمیت دیگر ججز کو دھمکی آمیز مشکوک خطوط موصول ہوئے تھے جن کے مقدمات درج کر کے تحقیقات کی جا رہی ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں