36

کراچی:لاپتا و بازیاب ہونے والے بچوں کو عدالت نے دوسری خالہ کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا

کراچی کی مقامی عدالت نے نارتھ ناظم آباد (بلاک ایچ) سے پر اسرار طور پر لاپتا ہوکر بازیاب ہونے والے 2 کم عمر بہن بھائی کو دوسری خالہ کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔ دونوں کم سن بچوں کو جوڈیشل مجسٹریٹ وسطی کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں ان دونوں کا بیان قلم بند کیا گیا والد کی جانب سے زاہد حسین سومرو ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے، مدعی مقدمہ بچوں کے ماموں تھے جن کے وکیل بھی عدالت میں پیش ہوئے، علاوہ ازیں بچوں کے والد و دیگر رشتے دار بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ کیس کے تفتیشی افسر نے بچوں کے بیانات قلم بند کرنے کی درخواست دائر کی۔ بچوں کے والد کے وکیل نے کہا کہ بچوں کے ساتھ ناروا سلوک کیا جاتا رہا ہے، بچوں نے تشدد سے تنگ آکر یہ قدم اٹھایا ہے، بچوں کے گھر چھوڑ کر جانے کی وجہ سے بات صاف ہے کہ وہ نانی کے گھر میں نہیں رہنا چاہتے تھےانہوں نے مزید کہا کہ 2 برس سے بچوں کی والد سے ملاقات نہیں کرائی جارہی ہے، 3 سال سے اسکول بند کیا ہوا ہے، خالہ اور ماموں کو گرفتار کرکے کڑی سے کڑی سزا دی جائے، ایسے لوگ معاشرے پر دھبہ بن چکے ہیں۔ مدعی مقدمہ (ماموں) کے وکیل نے کہا کہ بچے اغوا ہوئے تھے، 2 سال تک باپ کا اتا پتا نہیں تھا، بچوں کے والد کو تو ان کی فکر بالکل بھی نہیں تھی، نہ اتنے برسوں سے کوئی خرچہ دیا گیا تفتیشی افسر نے کہا کہ بچوں نے بتایا ہے کہ ظلم و ستم، مار پیٹ ہوتی تھی، اسکول بھی چھڑا دیا تھا، گھر سے نکلے، گاڑی والے کو کہا ہمیں ایدھی ہوم پہنچادو، گاڑی والے اچھے لوگ تھے بچوں کو گھر لے کھانا کھلایا، صبح والدہ کو کال کرکے کہا کہ بچوں کو پری مال چھوڑ رہے ہیں، آکر لے لیں۔ ’مار پیٹ کی وجہ سے چلے گئے تھے، کسی نے اغوا نہیں کیا‘ جوڈیشل مجسٹریٹ نے کہا کہ پہلے ہم بچوں کا بیان قلم بند کریں گے، پہلے بچوں کے بیانات ریکارڈ ہوں گے اس کے بعد دیگر درخواستوں پر سماعت ہوگی عدالت نے چیمبر میں دونوں بچوں کے بیانات ضابطہ فوجداری کی سیکشن 164 کے تحت ریکارڈ کرنا شروع کردیے۔ بچوں نے عدالت میں بیان دیا کہ مار پیٹ کی وجہ سے گھر سے چلے گئے تھے، ہمیں کسی نے اغوا نہیں کیا، ہم اپنی مرضی سے گئے تھے، ہم اپنی خالہ کے ساتھ جانا چاہتے ہیں، جس خالہ کے ساتھ اب رہتے تھے اُن کے ساتھ نہیں رہنا ہے۔ دریں اثنا جوڈیشل مجسٹریٹ وسطی نے دونوں بہن بھائی کا ضابطہ فوجداری کی سیکشن 164 کے تحت بیان قلم بند کرلیا۔ بعدازاں عدالت نے بچوں کو دوسری خالہ (سونیا) کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے خالہ کو 5، 5 لاکھ روپے کے ذاتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا اور بچوں کے والد کو کسٹڈی کے حوالے سے باقاعدہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں